0
Sunday 16 Feb 2020 18:30

کاش آرٹیکل چھ کے تحت کسی آمر کیخلاف کارروائی ہوتی، اعجاز ہاشمی

کاش آرٹیکل چھ کے تحت کسی آمر کیخلاف کارروائی ہوتی، اعجاز ہاشمی
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی صدر اور نائب صدر متحدہ مجلس عمل پیر اعجاز احمد ہاشمی نے مولانا فضل الرحمن کیخلاف انتقامی کارروائیوں کے وزیراعظم عمران خان کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے، اپوزیشن کی آنیوالے دنوں میں شروع ہونیوالی تحریک سے خائف ہو کر مختلف حیلے بہانے تلاش کر رہی ہے تاکہ الجھایا جا سکے، سلیکٹیڈ وزیراعظم اس طرح کے بیانات دے کر چھوٹے پن کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ وہ کرپشن نہیں کر رہے ہیں، اس لیے فوج ان سے بہت خوش ہے۔ ان کا یہ بیان ہی واضح کر رہا ہے کہ ان کی اپنی اوقات کیا ہے، آئین کا آرٹیکل 6 آئین شکنی کے مرتکب افراد کیخلاف غداری کا مقدمہ درج کرکے سزا دینا ہوتی ہے، مگر گزشتہ دنوں جنرل پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ آیا، جس کیخلاف حکومت مدعی بننے کی بجائے خود وکیل صفائی بن گئی اور عدالت نے فیصلے کو مسترد کر دیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں جے یو پی کی میڈیا ٹیم سے گفتگو میں کیا۔ پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ کاش آرٹیکل چھ کے تحت کسی آمر کیخلاف کارروائی ہوتی تاکہ آئین شکنی کے مرتکب طالع آزماوں کو عبرت ہوتی لیکن افسوس عدالتوں سے آئین شکنی کے مرتکب شخص کیخلاف فیصلے کم ہی آتے ہیں، فیصلے سیاستدانوں کے خلاف آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری قوتیں مولانا فضل الرحمن کیساتھ ہیں، حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی دھاندلی اور خفیہ قوتوں کی پیداوار موجودہ حکمران عمران خان اور ان کیساتھ دوسری کچھ مذہبی قوتیں بھی دھرنا دینے اسلام آباد گئی تھیں اور ان میں سے ایک مقرر نے اسلام آباد پہنچتے ہی پارلیمنٹ کے خاتمے اور وزیراعظم اور صدر کو سابقہ قرار دے دیا تھا۔ مرکزی صدر نے کہا کہ خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کیخلاف غداری کا مقدمہ کرنا بڑی سازش ہو گی اور مہنگائی بیروزگاری سے توجہ ہٹانے کی بھونڈی حرکت ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 844908
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش