1
Saturday 28 Mar 2020 22:38

ایران میں کرونا وائرس اور پیشرفت کی تازہ ترین صورتحال

ایران میں کرونا وائرس اور پیشرفت کی تازہ ترین صورتحال
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے موبائل لیب بنا لیا۔ ہفتہ کے روز بسیج فورس کے سربراہ بریگیڈئر جنرل غلام رضا سلیمانی نے اس کی باقاعدہ رونمائی کی۔ منی ٹرک پر نصب موبائل ٹیسٹنگ لیب کرونا وائرس کے ساتھ دوسرے وائرسوں کی بھی تشخیص کر سکتا ہے اور ٹیسٹ کا رزلٹ تین گھنٹے میں مل سکتا ہے۔ دریں اثناء کورونا وبا کیخلاف قومی مہم کے دوران بسیج فورس کے زیر اہتمام پورے ملک میں 40 ملین لوگوں کی سکریننگ کی گئی ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیدار کے مطابق ایران بھر میں موجود 90 لیبارٹریز میں روزانہ 10 ہزار کرونا ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ جمعہ کے روز ایران کے شمالی شہر گورگن میں کورونا وائرس سے متاثرہ 101 سالہ شخص صحت یاب ہو گیا۔ ایران میں سو سال سے زائد عمر کے مریضوں کےصحت یاب ہونے کا یہ چوتھا کیس ہے۔ اس سے پہلے شمالی صوبے سمنان کے ایک ہسپتال میں کرونا وائرس سے متاثرہ 103 سالہ خاتون صحت یاب ہو گئی تھی۔

دوسری جانب ایرانی ماہرین کورنا مریضوں کے علاج کیلئے پلازما ٹریٹمنٹ پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ اسی منصوبے کے تحت مغربی شہر کرمان میں ایک مریض کا علاج کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق اس پراجیکٹ کے تحت زیر علاج مریض کی حالت کافی بہتر ہے۔ ادھر مقامی طور پر بنائی جانے والی کرونا وائرس ٹیسٹ کٹ کا پہلا بیچ پیداواری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ دو اقسام کی کٹس کی تیاری ہو رہی ہے، کٹ کی پہلی قسم تمام ٹیسٹ میں کامیاب ہونے کے بعد پیداواری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جبکہ کٹ کی دوسری قسم دیگر ضروری ٹیسٹ کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ ادھر سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی نے کہا ہے کہ بسیج فورس روزانہ 30 لاکھ ماسک تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بسیج اور سپاہ پاسداران انقلاب مہلک وائرس کیخلاف مہم میں پوری قوت کے ساتھ اس وقت تک شامل رہے گی جب تک آخری مریض ٹھیک نہیں ہوتا۔

مشہد میں انجینئرنگ میڈیسن کے ایک گروب نے متعدی بیماریوں خاص طور پر کرونا سے متاثرہ مریضوں کو لے جانے کیلئے آئسولیشن شیلڈ تیار کر لی ہے۔ یہ شیلڈ چین اور امریکی ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے۔ ایرن کے الیکٹریکل اور میکینکل سیکٹر پر پابندیوں کے بائوجود مقامی طور پر بنائی گئی شیلڈ کی لاگت دیگر ممالک میں تیار ہونے والی شیلڈ کی لاگت سے نو گنا کم ہے۔ دریں اثنا ایک ایرانی نالج بیس کمپنی نے کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے طبی عملے کیلئے پولیسٹر فیس شیلڈ بھی بنائی ہے۔ ایک اور حیرت انگیز پیشرفت کے طور پر پاردس ٹیکنالوجیکل پارک کمپنی نے کرونا وائرس کیخلاف نبرد آزما طبی اہلکاروں کی حفاظت کیلئے خصوصی جراثیم کش گیٹ (disinfecting gate) بنانے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے جو طبی عملے کو کسی بھی جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے۔

کمپنی کے ایگزیکٹیو مینیجر افشان ناصری نے طبی عملے کی ملبوسات کو جراثیم سے پاک رکھنے کیلئے ایک خصوصی آلے کی تیاری سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ آلہ داخلی و خارجہ گیٹ، سرکاری و نجی عمارتوں کے عملے کو باہر سے آنے والوں کے جراثیم سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ آلہ جراثیم سے متاثرہ لباس کو گیلا کیے بغیر سپرے کرتا ہے، جو کوئی اس گیٹ کے ذریعے گزرتا ہے وہ پانچ سکینڈ تک رکنے سے جراثیم سے محفوظ رہتا ہے۔ ناصری کے مطابق درحقیقت یہ آلہ کرونا مریضوں کے ہسپتالوں کے داخلی و خارجی دروازوں پر نصب ہوگا تاکہ طبی عملے اور دیگر لوگوں اور ان کے لباس کو کسی بھی جراثیم سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس ڈیوائس کی ڈیزاننگ اور تیاری میں ایک ہفتہ کا وقت لگے گا۔

ایرانی وزارت صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں اب تک 57 ملین (پانچ کروڑ ستر لاکھ) افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ ادھر ایرانی صدر حسن روحانی نے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے سالانہ بجٹ کا 20 فیصد مختص کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر پابندیوں کے بائوجود اسلامی جمہوریہ ایران کا ہیلتھ سسٹم بہت مضبوط ہے۔ ادھر ایرانی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر کیانوش جہانپور نے کرونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے ہفتہ کو بتایا کہ ایران میں ٹوٹل 35408 متاثرین میں سے 11,679 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جبکہ اموات کی تعداد 2517 ہے۔
خبر کا کوڈ : 853276
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش