?>?> کورونا وائرس سے اموات میں اضافہ، کراچی کے گورکن پریشان - اسلام ٹائمز
0
Thursday 2 Apr 2020 02:58

کورونا وائرس سے اموات میں اضافہ، کراچی کے گورکن پریشان

کورونا وائرس سے اموات میں اضافہ، کراچی کے گورکن پریشان
رپورٹ: ایس ایم عابدی

کورونا وائرس سے اموات میں اضافے کے باعث کراچی کے قبرستانوں کے گورکن اپنی صحت سے متعلق تشویش میں مبتلا ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس سے ملک بھر میں اموات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جاں بحق 27 افراد میں سے 6 کا تعلق کراچی سے تھا۔ نارتھ ناظم آباد کے محمد شاہ قبرستان میں 35 سال سے خدمات انجام دینے والے گورکن محمد سلطان کا کہنا ہے کہ ہر کسی کو اپنی زندگی عزیز ہوتی ہے، گذشتہ ہفتے جب قبرستان میں کورونا وائرس سے جاں بحق شخص کی تدفین کی گئی تو محمد سلطان بھی وہاں موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ایدھی ایمبولینس کے ذریعے پوری طرح سے باکس میں بند ایک میت لائی گئی، جس کے ساتھ چند افراد تھے، تب میں وہاں سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دیگر دو گورکنوں نے میت کو اٹھا کر قبر کے قریب رکھا، گورکنوں نے اپنے کھلے ہاتھوں سے میت کی تدفین کی، کسی کیلئے بھی حفاظتی انتظامات نہیں کئے گئے تھے۔

محمد سلطان کا کہنا ہے کہ تدفین کے بعد انہوں نے خود کی حفاظت کیلئے اپنے کپڑے اور چپلیں جلا دی تھیں، اس قبرستان میں 7 گورکن کام کرتے ہیں، تاہم اس دن کے بعد سے 4 نے کام پر آنا بند کر دیا، جن میں 2 وہ لوگ بھی شامل ہیں، جنہوں نے کورونا وائرس سے جاں بحق شخص کی تدفین کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لوگ اس لئے کام پر نہیں آرہے، کیونکہ کورونا وائرس کے شکار شخص کی تدفین کے بعد خوف میں مبتلا ہوگئے ہیں، ہمارے بھی خاندان ہیں اور ہم اپنی زندگیوں کیلئے پریشان ہیں۔ گورکن نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ہمیں تدفین کیلئے رقم یا حفاظتی کٹ فراہم نہیں کی، اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو ہمارے لئے تدفین کے فرائض انجام دینا مشکل ہو جائے گا۔

محمد سلطان نے مزید کہا کہ انہیں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کیلئے زیادہ گہری قبریں کھودنی پڑیں، عام طور پر قبر 3 فٹ گہری اور 2 فٹ چوڑی ہوتی ہے، تاہم مہلک مرض سے جاں بحق فرد کی تدفین کیلئے ساڑھے 7 فٹ گہری اور 4 فٹ چوڑی قبریں کھودیں۔ گورکن کا کہنا ہے کہ ہم نے تدفین کے نرخ 3 سے 5 ہزار روپے بڑھا دیئے ہیں، کیونکہ پولیس نے مزدوروں کو ریتی، بجری اور اینٹیں قبرستان لانے سے روک دیا ہے۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی وفاق اور سندھ حکومت کو قبرستانوں کی صورتحال سے آگاہ کرچکے ہیں۔ کے ایم سی کے ڈائریکٹر قبرستان اقبال پرویز نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ہم پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی حکومت کو گورکنوں کی حفاظت سے متعلق آگاہ کرچکے ہیں، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ کے ایم سی وسائل کی کمی کے باعث اپنے طور پر اس صورتحال سے نہیں نمٹ سکتی، ہمیں وفاق اور صوبائی حکومت کی مدد کی ضرورت ہے۔ کراچی کے 5 قبرستان کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تدفین کیلئے مختص کر دیئے گئے ہیں، جن میں محمد شاہ قبرستان (نارتھ کراچی)، سرجانی ٹاؤن قبرستان (سیکٹر 6 اے نزد ناردرن بائی پاس)، مواچھ گوٹھ قبرستان (حب ریور روڈ)، کورنگی نمبر 6 قبرستان اور گلشن ضیاء قبرستان (اورنگی ٹاؤن) شامل ہیں۔ کے ایم سی حکام نے پی ڈی ایم اے سے درخواست کی ہے کہ تدفین کی کٹس، کلورین، دستانے، ماسک اور دیگر ضروری سامان میت کی تدفین کیلئے مہیا کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ شہری حکومت تدفین کے طریقہ کار کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 854079
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش