1
Sunday 5 Apr 2020 01:12
پاکستانی مائیکرو بائیولوجسٹ کی بات سنجیدہ لی جائے

کورونا کا بلوچستان میں مقامی پودے سے کامیاب علاج کا انکشاف

جبتک کورونا کی مستند دوا تیار نہیں ہوتی، مقامی دوا سے فائدہ اٹھانے میں حرج نہیں
کورونا کا بلوچستان میں مقامی پودے سے کامیاب علاج کا انکشاف
اسلام ٹائمز۔ سینئر صحافی اور کالم نگار نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ایک علاقے میں مقامی سطح پہ کورونا کا کامیاب اور انتہائی آسان علاج کیا جا رہا ہے۔ اپنے کالم میں انہوں نے بتایا ہے کہ سمیر واعظ مائیکرو بائیولوجسٹ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق بلوچستان کے دور دراز علاقے قلعہ سیف اللہ سے ہے، جو افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ سمیر واعظ پچھلے دنوں چھٹیوں پر گھر گئے تو معلوم ہوا کہ ان کے علاقے میں ایک نئی وبا آئی ہوئی ہے جس کو مقامی لوگوں نے ”پھیپھڑوں کا زکام“ کا نام دیا ہے۔ سرحد پر واقع ہونے کی وجہ سے شاید یہ وبا افغانستان کے راستے قلعہ سیف اللہ تک پہنچی ہو گی۔ میر واعظ نے جب گاؤں کے لوگوں سے اس بیماری کی علامات کے متعلق دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ پہلے زکام ہوتا ہے، پھر خشک کھانسی اور پھر بخار، ساتھ ہی سانس لینے میں دشواری ہونے لگتی ہے۔ گاؤں کے لوگ کورونا نامی کسی بیماری سے ناواقف تھے اور اسے”پھیپھڑوں کا زکام“ قرار دے رہے تھے۔

میر واعظ نے دیکھا کہ لوگ اس بیماری کے علاج کے لیے ایک مقامی پودے کا استعمال کر رہے ہیں اور اس کے استعمال سے وہ صحت یاب بھی ہو رہے ہیں۔ مائیکرو بائیولوجسٹ ہونے کے ناطے میر واعظ کو اس پودے میں دلچسپی پیدا ہوئی اور انہوں نے اپنے طور پہ اس پر ریسرچ شروع کر دی۔ ریسرچ کے دوران انہیں اس پودے کا بائیولوجیکل نام معلوم ہو گیا اور پھر انہیں پتہ چلا کہ اسی بائیولوجیکل نام کا کوئی پودا صدیوں سے TCM یعنی Traditional Chinese Medicine میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔ ادویات سے واقفیت نہ رکھنے والے مجھ جیسے شخص کے لیے یہ ایک نئی اصطلاح تھی۔ جب میں نے انٹرنیٹ پر جا کر ٹی سی ایم کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ خشک کھانسی، گلے اور پھیپھڑوں کے علاج کا یہ ایک ہربل فارمولا ہے جو صدیوں سے استعمال ہو رہا ہے۔ مختصر یہ کہ میر واعظ کچھ ہی دن میں اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ اگر اس مقامی پودے پر ریسرچ کی جائے تو کورونا کے علاج میں معاونت مل سکتی ہے۔ دوسرا یہ کہ جب تک کورونا کی مستند دوا تیار نہیں ہوتی تب تک اس مقامی سطح پر تیار ہونے والی پیسٹ کو استعمال کر کے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں۔

میر واعظ اپنی اس ابتدائی تحقیق کو لیے در در پھر رہے ہیں، کبھی بلوچستان حکومت سے رابطہ کرتے ہیں، کبھی این آئی ایچ کے ڈائریکٹر سے بات کرتے ہیں،کبھی ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ کے پاس جاتے ہیں اور کبھی سینئرز کو فون کرتے ہیں لیکن میر واعظ کی بات کو کوئی سنجیدہ نہیں لے رہا۔ سینئر صحافی اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ میرا مقدمہ یہ نہیں ہے کہ میر واعظ کی بات پہ فورا عمل درآمد کیا جائے اور ان کی تجویز کردہ دوا سے فورا کورونا کا علاج شروع کر دیا جائے بلکہ میرا سوال یہ ہے کہ ہمارا نظام کسی ریسرچر کے لیے مددگار ثابت کیوں نہیں ہوتا؟ ایک مائیکرو بائیولوجسٹ جو بنیادی طور پر ایک ریسرچر ہے اور اس کے پاس اپنی بات کے حق میں مضبوط دلائل موجود ہیں، موجودہ نظام میں رہتے ہوئے وہ اگر ریسرچ کا آغاز کرتا ہے تو پانچ سال لگیں گے اسے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے جس کا گریہ میں گذشتہ کالم میں کر چکا ہوں۔ تو کیا خاص حالات میں یہ ممکن نہیں کہ حکومت خصوصی اقدامات کرتے ہوئے ایچ ای سی، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن، پی ایم ڈی سی یا ڈریپ کے پلیٹ فارم سے ڈاکٹرز، ریسرچرز اور سائنسدانوں پر مشتمل ایک الگ سیل بنا دے جو میر واعظ، کورونا کی تشخیصی ڈیوائس بنانے کی کوشش کرنے والے ڈاکٹر عمر اور ڈاکٹر جان عالم جیسے افراد کی تحقیقات کو ہنگامی بنیادوں پر آگے بڑھا کر جلد از جلد کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کرے؟۔
خبر کا کوڈ : 854727
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش