1
Sunday 5 Apr 2020 04:01

سعودی عرب میں فلسطینی مزاحمتی محاذ کے حامیوں کی گرفتاری بلاجواز ہے، انہیں فوری رہا کیا جائے، حماس

ہمیں وہاں قید اپنے کارکنوں کی بنیادی اطلاعات سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے
سعودی عرب میں فلسطینی مزاحمتی محاذ کے حامیوں کی گرفتاری بلاجواز ہے، انہیں فوری رہا کیا جائے، حماس
اسلام ٹائمز۔ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سیکرٹری اطلاعات رأفت مرہ نے ایک مرتبہ پھر سعودی جیلوں میں قید حماس کے حامیوں کی آزادی کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تُرک خبررساں ایجنسی کو انٹریو دیتے ہوئے حماس کے سیکرٹری اطلاعات نے مطالبہ کیا کہ سعودی رژیم "محمد الخضری" اور ان کے ساتھیوں کو فوری طور پر آزاد کرے۔ رأفت مرہ نے سعودی رژیم کے انسانی جرائم اور صیہونی رژیم کے ساتھ اس کی وفاداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی رژیم کی طرف سے بلاجواز قید کر لئے جانے والے حماس کے مرکزی رہنما محمد الخضری کی عمر نہ صرف 80 سال سے زائد ہے بلکہ وہ بہت سی بیماری سے بھی رنج اٹھا رہے ہیں۔

حماس کے سیکرٹری اطلاعات رأفت مرہ نے سعودی بادشاہت کی طرف سے صیہونی رژیم اسرائیل کی تقلید میں قید کئے جانے والے حماس کے حامیوں کی فی الفور آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس عقل سلیم اور اسلامی حمیت سے عاری سعودی رژیم کو نصیحت کرتی ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمتی محاذ کے مرکزی رہنماؤں کو رمضان کریم کے آغاز سے قبل ہی تمام مقدمات ختم کر کے آزاد کر دے۔ انہوں نے کہا کہ حماس سمیت تمام فلسطینی مزاحمتی فورسز، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور قید مزاحمتی رہنماؤں کے خاندان سعودی رژیم کی طرف سے حماس کے مرکزی رہنماؤں پر دائر کئے گئے مقدمات پر نزدیک سے نگرانی کر رہے ہیں۔

حماس کے مرکزی رہنما رأفت مرہ نے سعودی عرب میں فلسطینی مزاحمتی محاذ کے حامیوں کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حجاز (سعودی عرب) کے اندر فلسطینی شہریوں کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے سعودی عرب میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے وہاں قید فلسطینی مزاحمتی محاذ کے حامیوں کی صحت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حماس کو سعودی جیلوں میں قید اپنے مرکزی کارکنوں کی صحت سے متعلق معلومات تک دسترسی حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو سعودی بادشاہت کی سنسرشپ پالیسی کے تحت وہاں قید اپنے کارکنوں کی بنیادی اطلاعات سے محروم رکھا جا رہا ہے تاہم تمام قیدیوں کے حوالے سے سعودی رژیم کا رویہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے۔

رأفت مرہ نے سعودی جیلوں میں قید فلسطینی مزاحمتی محاذ کے حامیوں کی آزادی کے لئے حماس کی طرف سے انجام دیئے گئے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حماس گزشتہ ماہ سے اپنے قیدیوں کی اطلاعات حاصل کرنے اور ان کی آزادی کی راہ تلاش کرنے کی کوشش میں ہے تاہم سعودی حکام کی طرف سے اس حوالے سے تاحال کسی رابطے کا جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس نے چند طریق سے سعودی حکام کو براہ راست پیغام بھی بھیجا ہے لیکن سعودی حکام اس حوالے کسی قسم کے رابطے کا جواب نہیں دیتے۔ واضح رہے کہ ایک سال سے زائد عرصے سے سعودی جیلوں میں قید بنیادی قانونی و انسانی حقوق سے محروم فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے معمر حامیوں کو گزشتہ ماہ پہلی مرتبہ چند منٹ کے لئے سعودی عدالت میں پیش کر کے ان پر فلسطینی آزادی کی تحریکوں کے ساتھ رابطے کی بناء پر دہشتگردی کا الزام عائد کر دیا گیا تھا جبکہ انہیں وکیل صفائی رکھنے کی اجازت بھی حاصل نہیں تھی، جس پر عالمی انسانی حقوق کے ٹھیکیداروں سمیت امت مسلمہ کی طرف سے بھی تاحال کوئی واضح ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔
خبر کا کوڈ : 854729
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش