0
Tuesday 28 Apr 2020 18:36

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنمائوں کی ملتان میں ویڈیو پریس کانفرنس

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنمائوں کی ملتان میں ویڈیو پریس کانفرنس
اسلام ٹائمز۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی کے عہدیداران نے ملتان پریس کلب میں پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھر میں گذشتہ ایک مہینے سے کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تعداد میں اضافہ عوام اور حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے، جنوبی پنجاب میں لاک ڈاون سخت نہ ہونے سے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، وبا کو روکنے کے لیے لاک ڈاون کو مزید موثر بنایا جائے، عوام حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کرے، ہمارے شعبہ صحت کے وسائل محدود ہیں، شعبہ صحت مریضوں کی بہت بڑی تعداد کو علاج کی سہولیات نہیں دے سکتا، جو خطرناک صورتحال اختیار کرے گا۔ ڈاکٹرز اور طبی عملے کو حفاظتی کٹس فوری فراہم کی جائیں، نشتر اسپتال میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی شدید کمی ہے، اگر عملہ بھرتی نہ کیا گیا تو آئیسولیشن وارڈ میں کام کرنا مشکل ہو جائے گا، بیروں ملک سے آنے والے پاکستانیوں کی ٹیسٹنگ اور آئسولیشن کے ایس او پی پر عمل نہیں ہو رہا، ضلعی انتظامیہ اپنے معاملات بہتر بنائے نہ کہ نشتر یونیورسٹی کے معاملات میں دخل اندازی کریں۔ 

ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں وائس چانسلر نشتر کی موجودگی کی مذمت کرتے ہیں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں نشتر ہسپتال کو بند کرنے کی دھمکیاں تضحیک آمیز رویہ ہے، مئی کا مہینہ کورونا وائرس کے پھیلاو کے حوالے سے بہت اہم ہے، حکومت لاک ڈاون کو سنجیدگی سے لے کر سختی کرے، نشتر آئسولیشن وارڈ میں اب 51 مریض موجود ہیں، اگر لاک ڈاون کو سخت نہ کیا گیا تو مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگا۔ نشتر کے حالات پی پی ایز کے حوالے سے بہتر ہوچکے ہیں، اب ہسپتال کے سٹاک میں تقریباً 2 ہفتے کی پی پی ایز موجود ہیں، تمام وارڈز میں تمام ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس سٹاف کو پی پی ایز اور این 95 ماسک دینے چاہیئے، نشتر میں حکومت اور عطیات جو ملا کر دو ہفتے کا سٹاک موجود ہے، تحصیل ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی حفاظت کے لئے کچھ نہیں تھا، ہم اپنے مریضوں اور ڈاکٹرز کے حقوق کے لئے بولیں گے، پی ایم اے اپنے مریضوں کا ہر حال میں علاج کرے گی، ہڑتال پی ایم اے کی پالیسی نہیں ہے۔ قارئین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔(ادارہ)
https://www.youtube.com/channel/UCnodHW8xrEdtL-iNo9nrjhQ/videos
خبر کا کوڈ : 859528
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش