0
Sunday 17 May 2020 18:46

سندھ حکومت ملت تشیع کو نشانہ بنانے کے بجائے وفاق سے اپنے تنازعات حل کرے، علامہ حسن ظفر نقوی

سندھ حکومت ملت تشیع کو نشانہ بنانے کے بجائے وفاق سے اپنے تنازعات حل کرے، علامہ حسن ظفر نقوی
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل معروف عالم دین علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت ہوش کے ناخن لے، شہر بھر میں بازار کھلے ہیں، سڑکوں پر ٹریفک جام ہ، لیکن ساری دشمنی کا مظاہرہ مولا علی (ع) کی شہادت کا دن منانے والے عزاداروں کے ساتھ کیا گیا ہے، تمام عزادار ایس او پیز کے تحت ہی مجالس و جلوس عزا برپا کر رہے تھے، اگر کہیں بھی کوئی بدنظمی کی صورتحال ہوئی تو اس کی وجہ خود حکومت سندھ تھی، کیونکہ حکومت ہر روز ایک نیا نوٹیفیکیشن جاری کر رہی تھی، جس کے نتیجے میں بےچینی کی فضاء قائم رہی، کراچی میں گرفتار کئے گئے تمام عزاداروں کو حکومت نے رہا کر دیا ہے، لیکن حیدر آباد، جیکب آباد اور اندورن سندھ میں ابھی تک عزادار رہا نہیں ہوئے ہیں اور اُن پر مقدمات قائم کر دیئے گئے، جو افسوسناک عمل ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں، ہم حکومت سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اندورن سندھ میں عزاداروں پر قائم مقدمات فی الفور ختم کئے جائیں اور روزے دار عزاداروں پر تشدد کے ذمہ دار افسران کو فوری طور پر برطرف کرکے تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے، تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ عزاداری ہماری شناخت اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے، اس پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ کورونا کی آڑ میں ملت تشیع کو ان کے مراسم عزاء سے روک لے گا تو وہ قطعی مغالطے میں ہے، ملت جعفریہ نے اب تک حفاظتی انتظامات مجتہدین کے فتویٰ، ماہرین ڈاکٹرز کے کہنے کے مطابق عمل کیا ہے، آئندہ بھی کریں گے، سندھ حکومت کا وفاق سے اختلافات کا نزلہ ہم اپنے اوپر نہیں گرنے دیں گے، سندھ حکومت کو چاہیئے کہ وہ ملت تشیع کو نشانہ بنانے کے بجائے وفاق سے اپنے تنازعات حل کرے، ملت تشیع نے مشکل کی ہر گھڑی میں ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے، کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ہم نے ناصرف طبی ہدایات پر سختی سے عمل کیا بلکہ لاک ڈاؤن کے دوران معاشی مشکلات کے شکار ہزاروں گھرانوں میں راشن تقسیم کرکے ایک باہمت اور محب وطن قوم ہونے کا ثبوت دیا۔
خبر کا کوڈ : 863231
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش