0
Tuesday 19 May 2020 00:47

اسرائیل کا ناپاک وجود پوری دنیا کیلئے خطرہ ہے، یوم القدس بھرپور انداز میں منائینگے، علامہ ناصر عباس جعفری

اسرائیل کا ناپاک وجود پوری دنیا کیلئے خطرہ ہے، یوم القدس بھرپور انداز میں منائینگے، علامہ ناصر عباس جعفری
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ فلسطینی اور کشمیری مسلمانوں کی حمایت میں عالمی یوم القدس کے طور پر منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر عالم اسلام کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔ ہر باشعور مسلمان یوم القدس کے موقع پر ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بھارت، اسرائیل اور امریکہ سے نفرت و بیزاری کا اظہار کرے۔ صدر ٹرمپ اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر ڈیل آف سنچری کے نام پر مسلمانوں کا قبلہ اول یہودیوں کے حوالے کرنے کا مذموم ارادہ کرچکے ہیں۔ صیہونیوں کے غاصبانہ قبضے کے دوران لاکھوں فلسطینیوں کو علاقہ بدر جبکہ ہزاروں افراد کو قیدی بنایا کر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ یہی سارے مظالم کشمیر میں بھی اسی انداز سے دہرائے جا رہے ہیں۔ عالمی استکباری قوتیں طاقت کے بل بوتے پر مسلمانوں سے ان کے وطن چھیننے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ دنیا بھر کے مظلومین کی حمایت میں آواز بلند کرنا ایک مذہبی، قانونی اور اخلاقی تقاضا ہے، جو ہر حال میں پورا کیا جائے گا۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ کشمیر اور فلسطین کے مظلوموں کی حمایت بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے موقف کی تجدید ہے۔ یوم القدس پر ہمارا احتجاج ان استعماری قوتوں کے لیے انکار کا دوٹوک اعلان ہے، جو اسرائیلی سرزمین اور وہاں کے باسیوں کے مستقبل کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا فلسطین میں بسنے والے مقامی افراد چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، انہیں ریفرنڈم کے ذریعے مستقبل کے فیصلے کا حق دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان حکمران اگر اسرائیل کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو اسرائیلی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔ اسرائیل کا ناپاک وجود پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ عالمی امن کے لیے اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عزاداری ہمارا قانونی و آئینی حق ہے۔ ہمارے درمیان یہ بات طے شدہ تھی کہ ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے مراسم عزا ادا کیے جائیں گے، تاہم حکومت نے اپنے فیصلے میں اچانک تبدیلی کرکے ملت تشیع میں اضطراب پیدا کر دیا۔ اس غیر متوقع صورتحال کی ساری ذمہ داری وفاقی و صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے انتظامی معاملات پر کمزور گرفت رکھتے ہوئے مسائل پیدا کیے۔ انہوں نے کہ ملت تشیع قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور قانون شکنی کو جرم تصور کرتی ہے، لیکن قانون کے نام پر مذہبی معاملات پر قدغن کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔
خبر کا کوڈ : 863486
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش