0
Friday 22 May 2020 17:31

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بے قصور طلباء کی گرفتاری سے پولیس اپنی معتبریت کھو رہی ہے، دانش علی

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بے قصور طلباء کی گرفتاری سے پولیس اپنی معتبریت کھو رہی ہے، دانش علی
اسلام ٹائمز۔ بہوجن سماج پارٹی کے لیڈر اور لوک سبھا کے ممبر پارلیمنٹ کنور دانش علی نے کہا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پُرامن اور جمہوری طریقے سے احتجاج کرنے والے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بے قصور طلباء کی گرفتاری اور انہیں ہراساں کرکے دہلی پولیس اپنی معتبریت کھو رہی ہے۔ دانش علی نے جمعہ کو ٹوئیٹ کرکے کہا کہ جمہوری طریقے سے مظاہرہ کرنے والے بے گناہ طالب علموں کو ہی دہلی میں تشدد بھڑکانے اور نفرت کا ماحول بنانے کا اصل مجرم مان کر انہیں گرفتار اور ہراساں کرنے سے دہلی پولیس تیزی سے اپنی معتبریت کھو رہی ہے۔

غور طلب ہے کہ شہریت ترمیم قانون کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ میں احتجاج کی قیادت کر نے والے بہت سے طالب علموں کو لاک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا ہے اور ان سب پر شمال مشرقی دہلی میں تشدد کی سازش کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان طلباء پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ دہلی تشدد معاملے میں جامعہ کے ریسر اسکالر میران حیدر، صفورہ زرگر، آصف اقبال تنہا اور ایسوسی ایشن آف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر شفاء الرحمان خان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان طلباء پر بغاوت، قتل، قتل کی کوشش، مذہب کی بنیاد پر مختلف گروپوں کے درمیان نفرت کو فروغ دینے اور فسادات کے جرائم کے لئے بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے حامیوں اور اس کی مخالفت کرنے والوں کے درمیان شمال مشرقی دہلی میں 23 سے 26 فروری کے درمیان تشدد ہوا تھا، جس 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔
خبر کا کوڈ : 864249
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش