0
Wednesday 3 Jun 2020 09:03

اسرائیل اور سعودی عرب میں خفیہ مذاکرات کا انکشاف

اسرائیل اور سعودی عرب میں خفیہ مذاکرات کا انکشاف
اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں جن کا مقصد مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی املاک کا کنٹرول سعودی عرب کے زیرانتظام کرنا ہے، تاہم اسرائیلی حکام نے ایسے کسی بھی مذاکرات کی تردید کی ہے۔اسرائیلی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات سفارت کاروں کی سطح پر شروع ہوئے اور اس میں اعلیٰ سطح کی اسرائیلی سیکورٹی ٹیم، امریکی حکام اور سعودی حکام بھی شامل تھے۔ ان مذاکرات کے ذریعے جو معاہدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسے صدی کا تاریخی معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ مسجد الاقصیٰ میں اسلامی اینڈومنٹ کونسل میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کے حوالے سے اردن نے سخت مخالفت کی تھی، یہ تبدیلی مقدس مقام پر ترکی کے بڑھتے کردار کی وجہ سے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اردنی ٹیم نے باب الرحمہ کے مقام پر پیش آنے والی بدامنی اور 2017ء کے میٹل ڈٹیکٹر بحران کے بعد اسلامی اینڈومنٹ کونسل میں توسیع کی مخالفت کی اور اوسلو معاہدے کی مخالفت میں جاتے ہوئے غیر معمولی انداز سے اس بات پر اتفاق کیا کہ کونسل میں فلسطینی نمائندوں کو شامل کیا جائے۔ رپورٹ میں فلسطینی نمائندوں پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کی کونسل میں شمولیت کی وجہ سے ہی الاقصیٰ مسجد کے معاملات میں ترکوں اور ایرانیوں سے لاکھوں ڈالرز کے عطیات وصول کر کے اپنے قدم جمانے کی کوشش کی۔ ان تنظیموں کو ترک صدر رجب طیب اردوان کے واضح احکامات حاصل تھے۔
خبر کا کوڈ : 866308
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش