0
Friday 10 Jul 2020 00:03

وزیراعظم عالمی معیشت کا رونا رونے کی بجائے گھر کی خبر لیں، سراج الحق

وزیراعظم عالمی معیشت کا رونا رونے کی بجائے گھر کی خبر لیں، سراج الحق
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ تمام معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے، آئی ایم ایف کا مقصد معیشت ٹھیک کرنا نہیں بلکہ اپنے ایجنڈے کی تکمیل ہے، جب تک آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر چلتے رہے ملکی معیشت سنبھل نہیں سکتی۔ وزیراعظم عالمی معیشت کا رونا رونے کی بجائے گھر کی خبر لیں اور عوام کو مہنگائی، بے روز گاری، غربت سے بچانے اور تعلیم و صحت کی سہولتیں دینے کی طرف توجہ دیں۔ خود وفاقی منسٹرز اپنی ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات میں سابق صوبائی وزیر حسین احمد کانجو جو گزشتہ دنوں کورونا سے وفات پاگئے تھے کی رہائش گاہ پر تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت نے اوور سیز پاکستانیوں کے ساتھ ظلم و جبر کی انتہا کردی ہے، اوورسیز پاکستانیوں کو لوٹا جارہا ہے، سرکاری ایجنٹ بلیک میں ٹکٹ بیچ کر لاکھوں روپے کما رہے ہیں، کورونا وبا سے نپٹنے کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کا اب تک ایک پیج پر نہ آنا المیہ ہے۔ اگر ابتداء میں ہی متفقہ پالیسی بنائی جاتی تو کورونا کے پھیلاﺅ پر قابو پایا جاسکتا تھا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت تمام تر وعدوں اور بلندوبانگ دعوﺅں کے باوجود مہنگائی اور بے روز گاری پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ حکمرانوں نے ہماری آنے والی نسلوں کو بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی کی ہتھکڑیاں پہنا دی ہیں۔ حکمران، نیب اور عدالتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتیں تو آج ملک 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا مقروض نہ ہوتا۔ کرپشن، بدعنوانی اور رشوت ستانی جیسے جرائم کے مکمل خاتمہ کیلئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فیصلے کرنا ہونگے۔ چوری کرکے بیرون ملک منتقل کی گئی قومی دولت واپس آجائے تو نا صرف پاکستان کے تمام قرضے اتر سکتے ہیں بلکہ عوام کو غربت مہنگائی، بے روزگاری دلدل سے بھی نکالا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تو چیف جسٹس نے نئی احتساب عدالتیں بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کا ادارہ کام نہیں کر رہا، مقدمے درج ہوتے ہیں مگر فیصلے نہیں ہوتے، یہی ہونا ہے تو کیوں نہ نیب اور احتساب عدالتیں بند کردی جائیں۔

سراج الحق نے مزید کہا کہ بے لاگ احتسابی نظام کے بغیر بدعنوانی اور کرپشن کا خاتمہ خود فریبی کے سوا کچھ نہیں، چند لوگوں کے احتساب اور مجرموں کے آسانی سے بیرون ملک فرار کی وجہ سے پورے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ نیب کی الماریوں میں کرپشن کے 150 میگا سکینڈل کی فائلیں پڑی گل سڑ رہی ہیں، مگر ان پر کوئی کاروائی نہیں کی جارہی۔ پانامہ کے دیگر 436 ملزموں کو بھی کوئی نہیں پوچھ رہا۔ ان تمام کیسز پر نیب اور حکمرانوں نے ایک پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ قانون افراد کیلئے نہیں بلکہ ملک و قوم کیلئے ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بڑے جاگیر داروں اور سرمایہ داروں سے ٹیکس وصولی کا منظم نظام بنائے، غریبوں کو ٹیکس کی چکی میں پیستے رہنا معاشی پلاننگ نہیں۔ لوٹ کھسوٹ کے نظام کو ختم کئے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سینیٹر سراج الحق نے سابق صوبائی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی حسین احمد کانجو کی خدمات کو زبر دست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے انتھک محنت کی اور اپنی زندگی میں امانت و دیانت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
خبر کا کوڈ : 873507
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش