0
Friday 10 Jul 2020 00:11

دوسری شادی اور طلاق کی دھمکی بھی گھریلو تشدد قرار، بل قومی اسمبلی میں پیش

دوسری شادی اور طلاق کی دھمکی بھی گھریلو تشدد قرار، بل قومی اسمبلی میں پیش
اسلام ٹائمز۔ قومی اسمبلی میں گھریلو تشدد کیخلاف خواتین، بچوں، بڑوں اور نادار افراد کے تحفظ کا بل پیش کر دیا گیا۔ وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کے ذمہ دار شخص کو کم سے کم 6 ماہ جبکہ زیادہ سے زیادہ 3 سال قید اور 20 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جاسکے گا، جرمانہ ادا نہ کرسکنے پر مزید تین ماہ قید ہوسکے گی۔ تشدد میں جذباتی، نفسیاتی اور زبانی استحصال بھی شامل ہوگا، اس کے علاوہ دیوانگی یا تہمت لگا کر بیوی کو طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا بھی تشدد میں شمار ہوگا، بیوی کو کسی دوسرے شخص سے تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرنا بھی تشدد میں شامل ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 873509
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش