0
Saturday 11 Jul 2020 15:07
تشیع اسلام ناب محمدی ہے، اسکی تضعیف کا عمل افسوسناک ہے

آئی ایس او اپنی لازوال تاریخ کیساتھ الہیٰ راستے پر گامزن ہے، مجلس نظارت

ایک مدرسے کے معزز پرنسپل نے مسلسل ملت کی تحقیر کو شعار بنا لیا ہے
آئی ایس او اپنی لازوال تاریخ کیساتھ الہیٰ راستے پر گامزن ہے، مجلس نظارت
اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی مجلس نظارت نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں بین المسلمین اور بین المومنین وحدت کے فروغ پر زور دیا گیا ہے اور ملت میں افتراق کو ہوا دینے کے فعل کی مذمت کی گئی ہے۔ مجلس نظارت کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی اعلاء کلمة الحق کے سلسلے میں ایک درخشان تاریخ ہے، اس الہیٰ تنظیم نے اپنے آقا و مولا امام العصر حضرت حجت ابن الحسن ارواحنا لہ الفداہ اور آج کے دور میں ان کے نائب برحق رہبر مسلمین سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ تعالیٰ کی تاسی کرتے ہوئے ہمیشہ اعتدال اور جامعیت کو مدنظر رکھا ہے اور عالمی اسلامی نہضت، پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سالمیت اور تشیع کے حقوق کی جدوجہد میں سینہ سپر رہی ہے۔

ارکان نظارت کا کہنا ہے کہ حکمت عملی کے مرحلے میں ہم نے اس الہیٰ تنظیم کو علوی بصیرت پر عمل پیرا پایا اور وحدت بین المسلمین اور مومنین کے ذریعے اور فروعی اختلافات و حواشی سے گریز کرکے اسلام دشمن قوتوں کو مایوس کرنے پر عمل پیرا ہوئے، لیکن اس کیساتھ مکتب امامت کا پرچار اور امت مسلمہ اور شیعہ معاشرے میں انحرافی نظریات کی بیخ کنی میں کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بصیرت مومن کی سپر ہے، جس کے ذریعے وہ دشمن کے مکر و فریب کا شکار ہونے اور اس کے اہداف کی تکمیل کا ایندھن بننے سے بچا رہتا ہے، اپنے الہیٰ اہداف اور مصالح کی تشخیص دیتا اور انہیں آگے بڑھاتا ہے۔
 
مجلس نطارت کا کہنا ہے کہ آج ہمیں انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ لاہور کے ایک مدرسے کے معزز پرنسپل نے مسلسل ملت تشیع، ملی تنظیموں اور شخصیات کی تحقیر کو اپنا شعار بنا لیا ہے اور ہر گزرتے ہوئے وقت کیساتھ وہ اس گام آگے بڑھ رہے ہیں۔ ارکان کا کہنا تھا کہ ان کے اس عمل سے ملت میں نفرت اور افتراق کے تاریک سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم تمام ملی شخصیات، اداروں اور تنظیموں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے بظاہر مختلف کاموں کو ملت کے کثیر جہتی اہداف کی تکمیل کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اسلامی نہضت کو نظریاتی، ثقافتی، تعلیمی، خدماتی و سیاسی جہتوں کی حامل حقیقت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک و ملت کی فلاح کی ان جہتوں کو متعارض قرار دینا اور ان سے وابستہ گروہوں کی تنقیص کرنا ایک غیر دانشمندانہ اور مضر عمل سمجھتے ہیں۔
 
مجلس نظارت کا کہنا ہے کہ تشیع اسلام ناب محمدی ہے، اس کی تضعیف کا عمل اپنی ہر صورت میں نامناسب اور افسوسناک ہے، اس میں عقائدی اور فکری انحراف پیدا کرنیوالے جاہلوں اور آلہ کاروں سے کسی طور غفلت نہ برتی جا سکتی، نہ الحمدللہ ملت کے کسی نظریاتی گروہ نے برتی ہے، لیکن اس عظیم مکتب میں اس بنا پر افتراق پیدا کرنا اور ملت کو ذاکر، عالم، ملنگ، خطیب کی صنفوں میں بانٹنا اور استہزاء اور تحقیر پہ مبنی بیانات دینا ملت کو کمزور کرنا ہے۔ رہبریت اور مرجعیت کی تضعیف اپنی تمام شکلوں میں مذموم اور ملک و ملت کیلئے نقصان کا باعث ہے۔ لہذا تمام بزرگان، اکابرین اور تنظیمات سے گزارش کی جاتی ہے، اپنے فقہی اور سیاسی امور میں موقف کو مرجعیت و رہبریت کے تابع رکھیں۔ مراجع کے مسلمہ فتاویٰ اور رہبریت کے عالمی سیاسی بیانیوں کے مقابل بعض بزرگان کا قیام نظام کی تضعیف کا باعث بنا ہے۔۔ ہم کسی بھی انقلابی شخصیت یا تنظیم کے محض اپنی روش کو حق سمجھنے اور اس سے اختلاف رکھنے والوں کو غیر نظریاتی یا غیر انقلابی قرار دینے اور ان کی تحقیر کرنے کی روش پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔
 
مجلس نظارت کا کہنا ہے کہ نظام رہبری اور مرجعیت و اجتہاد پر اپنے غیر متزلزل ایمان و اعتماد کیساتھ وابستگی اور ملت تشیع پاکستان اور ملک خداداد کی خدمت کی لازوال تاریخ کیساتھ آئی ایس او پاکستان اپنے الہیٰ راستہ پر گامزن ہیں، لہذا بعض شخصیات کی طرف سے بالخصوص آئی ایس او پاکستان اور بالعموم تمام اجتماعی جدوجہد میں مصروف عمل تنظیموں پر عمومی تنقید اور محاذ آرائی کی فضا پیدا کرنے کے رویئے سے خبردار کرتے ہیں کہ یہ ملت کے مفاد میں ہرگز نہیں، آخر میں عرض ہے کہ ہم اُمت مسلمہ اور بالخصوص مومنین میں اختلافات کو ہوا دینا حرام سمجھتے ہیں اور تمام گروہوں اور شخصیات کو دعوت دیتے ہیں کہ قومی و ملی تنظیموں کو کمزور کرنے کے بجائے ان کیساتھ مل کر پاکستان میں شیعہ قوم کو مضبوط بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ مجلس نظارت نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ ایک دوسرے کی تضعیف کے بجائے طاقت بنیں، مشترکہ مسائل جن میں شیعہ حقوق، تحفظ عزاداری، شیعہ مِسنگ پرسنز، وحدت بین المومنین، وحدت بین المسلمین اور اسی طرح اپنے مادر وطن کے تحفظ، ترقی اور اسے عالمی استعمار کی محکومی سے نکالنے کیلئے درست سمت میں ڈائیرکشن دینے میں ہم آہنگی سے آگے بڑھیں، جو ہماری شرعی اور قومی ذمہ داری ہے۔
خبر کا کوڈ : 873767
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش