0
Thursday 6 Aug 2020 23:54
عوام حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں

کشمیر پہ سودا ہو چکا ہے، حکومت ملوث ہے، بلاول بھٹو

عمران خان کشمیر کے نہیں، کلبھوشن یادیو کے وکیل ہیں
کشمیر پہ سودا ہو چکا ہے، حکومت ملوث ہے، بلاول بھٹو
اسلام ٹائمز۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے الزام عائد کیا ہے کہ کشمیر پر سودا ہو چکا اورحکومت اس میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے سودے کا الزام ہم نہیں کشمیری لگا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیری عوام حکومتی کردار سے مایوس ہو چکےہیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ مودی الیکشن جیتے گا تو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے کشمیر پر قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومت کو گھر بھیجنے کا نقصان آج تک بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر پیپلز پارٹی کا موقف واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پیپلزپارٹی نے صف اول کا کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار بھٹو کہا تھا کہ اگر کشمیر کے لیے جنگ لڑنی پڑی تو لڑیں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پہلے ایک آمر فون کال پر ڈر جاتا تھا اور کٹھ پتلی بھی ڈر کر ملائیشیا کانفرنس میں نہیں گیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت کے حوالے سے پالیسی بنانی چاہیے۔

چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ فیٹف معاملے پر اپوزیشن کی تجاویز لی جاتیں تو بہتر ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیٹف کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی پالیسی واضح ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ فیٹف کی آڑ میں غلط پالیسیوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ کلبھوشن یادیو آرڈی ننس پر آئین کی خلاف ورزی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو آرڈیننس کو پوشیدہ رکھا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کشمیر کے نہیں کلبھوشن یا دیو کے وکیل ہیں۔ چیئرمین پی پی بلاول بھٹو  نے کہا کہ ہمیں پارلیمنٹ کو جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بل پاس کرنے سے پہلے ہمیشہ تقریر کرائی جاتی ہے جس کا فائدہ ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ کشمیر پر سودا ہو چکا اور حکومت اس میں ملوث ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ہم نے تو ہر جمعہ کو باہر نکل کر احتجاج کرنا تھا تو وہ کہاں گیا؟

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کشمیر ہائی وے کا نام اب سری نگر ہائی وے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  مقبوضہ کشمیر کے عوام پاکستان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں جب کہ پاکستان کے عوام موجودہ حکومت کے کردار سے مطمئن نہیں ہیں۔ چیئرمین پی پی نے نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال بعد وزیر خارجہ کو خیال آیا کہ ہمیں میٹنگ بلانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ موجودہ حکومت نے ترکی اور ملائیشیا کی بے عزتی کیوں کی؟ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے نریندر مودی کے صرف عمل کی نقل کی اوراس کی طرح اپوزیشن کو گرفتار کیا۔ بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ ہر پاکستانی اور کشمیری کو پتا ہے کہ موجودہ حکومت نے کشمیر کا سودا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فیٹف پرعمل کرنے پہ کیوں مجبور ہے؟ تو اس کی وجہ حکومتی کارکردگی ہے۔

بلاول بھٹو نے عمران خان کو بزدلی کا بھی طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ بزدلی کا مظاہرہ کیا، مقبوضہ کشمیر پر حملے کے بعد وزیراعظم نے کہا کہ جنگ نہیں ہو گی، حکومت نے ہماری زیادہ تر ترامیم تسلیم کی ہیں۔ ماضی میں ایک آمر نے پاکستانی شہریوں کو بیچا، انہوں نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ اگر پارلیمنٹ ہی پاکستانی عوام کا تحفظ نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟ بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک کے تمام مسائل حل کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فیٹف سے متعلق سات سے آٹھ بل باقی رہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیٹف کی آڑ میں ان کو آمرانہ طاقت دینے کو تیار نہیں ہیں۔ پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کس نے پاکستان کو 90 ہزار جنگی قیدی واپس دلوائے تھے؟

بلاول کا کہنا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ دہلی اور اسلام آباد نہیں ہو گا بلکہ کشمیری عوام کریں گے۔ بلاول بھٹو نے حکومتی بنچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے عوام آپ کے کردار سے مایوس ہو چکے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ نریندر مودی کو ظلم کا جواب منافقت چھوڑ کر مل کر دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کے عوام یہ فیصلہ کریں کہ انہیں پاکستان کے ساتھ شامل ہونا ہے؟ بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ انسانی اور جمہوری حقوق کا تحفظ نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام ہم سے سوال پوچھتے ہیں کہ آپ کا وزیراعظم کہا ں ہے؟ چیئرمین پی پی کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کو با ت کرنے دیتے تو قانون سازی بہتر ہو جاتی، چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی سے پاکستان اور کشمیر کے عوام مطمئن نہیں ہیں۔
خبر کا کوڈ : 878784
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش