?>?> پنجاب اسمبلی، متعدد ارکان کا تحفظ بنیاد اسلام بل سے لاتعلقی کا اعلان - اسلام ٹائمز
0
Friday 7 Aug 2020 13:22
ہمیں اندھیرے میں رکھ کر بل منظور کروایا گیا، آئندہ محتاط رہیں گے

پنجاب اسمبلی، متعدد ارکان کا تحفظ بنیاد اسلام بل سے لاتعلقی کا اعلان

ارکان کی ذمہ داری ہے گھر سے بل کا مطالعہ کرکے آئیں، وزیر قانون برس پڑے
پنجاب اسمبلی، متعدد ارکان کا تحفظ بنیاد اسلام بل سے لاتعلقی کا اعلان
اسلام ٹائمز۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کی زیر صدارت دو گھنٹے 15 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر ہی تحفظ بنیاد اسلام بل پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے کھڑے ہوکر اس پر شدید تحفظات کا اظہار کر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے آغا علی حیدر، پیر کاظم شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ، پاکستان تحریک انصاف کے سید یاور عباس بخاری، صوبائی وزیر حسین جہانیاں گردیزی نے بل کو واپس لینے کا مطالبہ کر دیا جبکہ حکومتی ارکان نے تحفظ بنیاد اسلام بل کو حکومت کیخلاف شازش قرار دے دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی پیر اشرف رسول نے انکشاف کیا کہ اس متنازع بل کو شہزاد اکبر کے کہنے پر اسمبلی سے منظور کروایا گیا، جبکہ تحفظ بنیاد اسلام بل کی حمایت کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے رکن سید یاور عباس بخاری نے ایوان سے معافی مانگ لی۔ سید یاور عباس بخاری نے کہا کہ ہمیں اندھیرے میں رکھ کر بل کو منظور کرایا گیا، اس بل سے پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی کسی شخص کو یہ نہیں کہہ سکتی کہ اس کا فرقہ کیا ہوگا۔ سید یاور عباس بخاری نے مطالبہ کیا کہ بل کو واپس اسمبلی میں لاکر اس پر تمام مکتبہ فکر کے نمائندہ افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔ دیگر ارکان نے بھی متنازع بل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ بل کو واپس اسمبلی میں لایا جائے، اس بل کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کہ کیا یہ بل حکومت کا ہے؟ اگر حکومت کا ہے تو کابینہ کی منظوری سامنے لائی جائے اور اگر یہ بل پرائیویٹ طور پر منظور کرایا گیا ہے تو کس کمیٹی سے منظور ہوا ہے، وہ ایوان کو بتایا جائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ نے بل سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔

سید حسن مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ کہا گیا کہ میرا نام بھی اس کمیٹی میں تھا، حالانکہ مجھے معلوم ہی نہیں کہ بل کیا ہے اور کب و کیسے پاس ہوا، نہ ہی مجھے کسی قسم کی کوئی اطلاع دی گئی۔ ارکان اسمبلی نے انکشاف کیا کہ اس بل پر ہمیں اندھیرے میں رکھا گیا اور ہماری لاعلمی سے اس متنازع بل کو منظور کرا لیا گیا۔ ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ آئندہ کوئی بل آنکھیں بند کرکے منظور نہیں کریں گے۔ صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ نے متنازع بل کے حوالے سے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بل منظور ہونے کے بعد اس پر اعتراضات آئے تھے، جس پر بل کو گورنر کے پاس منظوری کیلئے نہیں بھیجا گیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ بل پر تحفظات دور کرنے کیلئے علماء کی رائے سے ترامیم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک بل پر مکمل اتفاق رائے نہیں ہوتا، اس بل پر کوئی پیشرفت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ اس بل پر مکمل اتفاق رائے ہو۔ انہوں نے ارکان کی جانب سے بل پر تحفظات کے اظہار پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ارکان اسمبلی کا فرض ہے کہ وہ ہر بل کو گھر سے پڑھ کر آئیں، ہر قانون ساز ممبر کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ وزیر قانون کے جواب میں ارکان اسمبلی نے کہا کہ ہم آپ پر اعتماد کرتے ہیں، اس لیے پڑھے بغیر اسے منظور کرایا، آئندہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 878859
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش