0
Saturday 8 Aug 2020 22:54

نااہل حکومت نے ملک کو آگے لے جانے کی بجائے مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا، سراج الحق

نااہل حکومت نے ملک کو آگے لے جانے کی بجائے مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا، سراج الحق
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ دو سال بعد بھی حکومتی گاڑی جہاں تھی وہیں کھڑی ہے، نااہل حکومت نے ملک کو آگے لے جانے کی بجائے مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا ہے، حکمرانوں نے اپنے لئے ایسے مسائل پیدا کرلئے ہیں کہ اب انہیں عوام کی نہیں اپنی فکر پڑی ہوئی ہے۔ ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی اور عوام کی فلاح و بہبود ان کے ایجنڈے میں نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز الاسلامی پشاور میں اسلامک لائرز موومنٹ خیبر پختونخوا کے ضلعی اور تحصیل بارز ایسوسی ایشنز کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے عہدیداروں کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا کے امیر سینیٹر مشتاق احمد خان، اسلامک لائرز موومنٹ کے مرکزی صدر خان افضل خان ایڈووکیٹ، خیبر پختونخوا بارز ایسوسی ایشنز انتخابات میں کامیاب امیدواروں سمیت ملتان بار الیکشن میں کامیاب ہونے والے عہدیدار بھی شریک تھے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور موجودہ حکومت عوام کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ ہے نہ ہی ان کے پاس مسائل حل کرنے کی صلاحیت ہے۔ قوم چاہتی ہے کہ ملک میں آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی ہو، لیکن یہاں عدالتوں میں بھی انصاف نہیں ملتا، عدالتوں کے دروازے سونے کی چابی سے کھلتے ہیں۔ حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے عوام رْل گئے ہیں، آٹا، چینی، پٹرول اور ضرورت کی دوسری چیزیں مہنگی کرکے حکومت نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ ملک میں مہنگائی کا سونامی ہے اور اس سونامی نے سب سے زیادہ عام آدمی کی مشکلات اور پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔ وکلاء کے نمائندے بار رومز کو ظلم اور لاقانونیت کے خلاف استعمال کریں۔ باقی ادارے کھل گئے اب حکومت کے پاس ایس اوپیز کے تحت تعلیمی اداروں کو نہ کھولنے کا کیا جواز ہے۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ کیلئے تبلیغی جماعت کے شب جمعہ پر سے بھی پابندی ختم کی جائے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ناکام ہوچکی، اب پی ٹی آئی بھی ناکامی سے دوچار ہے۔ حکومت کی معاشی و تعلیمی پالیسیاں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے دعوے اور وعدے پورے نہیں کرسکی ہے، اس لئے عوام موجودہ حکومت سے بھی مایوس ہورہے ہیں۔ فرسودہ نظام اور اسٹیٹس کو کی حفاظت کرنا عوام کی توہین ہے۔ ہمارے تمام فیصلے عالمی دباؤ پر رات کی تاریکی میں ہورہے ہیں۔ حکومت کب تک عالمی اداروں کو خوش کرنے کیلئے ہماری آزادی اور خود مختاری کا سودا کرتی رہے گی۔ کلبھوشن کو سہولتیں دیکر وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ ہم نے بھارت کو جھکنے پر مجبور کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی مشرف دور کی طرح غلامانہ ذہنیت سے فیصلے کئے جارہے ہیں۔ جس طرح ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑا اور ایمل کانسی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کیا گیا اسی طرح اس حکومت نے پہلے ابھینندن کو چھوڑا اور اب کلبھوشن کو آزاد کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ انہوں نے وکلاء رہنماؤں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بار رومز آپ کے لئے دعوت کے میدان ہیں۔ آپ ملک بھر کے وکلاء کی نمائندگی کریں اور قوم اور جمہور کے بنیادی حقوق کا جھنڈا اٹھائیں، ان کی آواز بنیں اور ان کے حقوق کے لئے لڑیں۔ وکلاء کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ ان شاء اللہ وکلاء پاکستان میں عدل و انصاف کی حکمرانی کے لئے جدوجہد میں کامیاب ہوں گے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت میں وفاقی کابینہ کے سب سے زیادہ اجلاس ہوئے مگر ان اجلاسوں میں ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کہیں نظر آیا۔ اب تو چیف جسٹس نے بھی کہہ دیا ہے کہ پریس کانفرنسوں سے لوگوں کو تحفظ ملے گا نہ ان کے مسائل حل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے ہماری آنے والی نسلوں کو بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی کی ہتھکڑیاں پہنا دی ہیں۔ حکمران، نیب اور عدالتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتیں تو آج ملک 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا مقروض نہ ہوتا۔ کرپشن، بدعنوانی اور رشوت ستانی جیسے جرائم کے مکمل خاتمہ کیلئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فیصلے کرنا ہونگے۔ چوری کرکے بیرون ملک منتقل کی گئی قومی دولت واپس آجائے تو نا صرف پاکستان کے تمام قرضے اتر سکتے ہیں بلکہ عوام کو غربت مہنگائی، بے روزگاری دلدل سے بھی نکالا جاسکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 879124
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش