0
Saturday 8 Aug 2020 23:10

اختلافات پر سعودیہ کو 1 ارب ڈالر واپس کیے گئے، شہباز رانا کا انکشاف

اختلافات پر سعودیہ کو 1 ارب ڈالر واپس کیے گئے، شہباز رانا کا انکشاف
اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کار شہباز رانا نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو دیے گئے قرض میں سے ایک ارب ڈالر واپس لے لیے ہیں جب کہ یہ رقم جولائی کے آخری ہفتے میں چین سے ایک ارب ڈالر قرض لے کر واپس کی گئی ہے۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرض واپس کرنے کے بارے میں بار بار پوچھنے کے باوجود وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک نے کوئی جواب نہیں دیا۔ حکومت پاکستان کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے خارجہ پالیسی کے کچھ معاملات پر اختلافات تھے، جس کی وجہ سے ان میں فاصلے بڑھے تو وزیر اعظم عمران خان نے رواں سال نومبر میں واپس کیے جانے والا قرضہ وقت سے پہلے جولائی میں واپس کرادیا۔ دوسری طرف سے جو چیز پتا چلی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام سے نکلنا چاہتی ہے اور نکلنے سے پہلے اس نے اس کی مالی ضروریات کے لیے سعودی عرب سے مزید پیسہ لینے کا فیصلہ کیا۔ سعودی عرب نے  مزید پیسہ دینے کے بجائے اپنا پرانا پیسہ واپس مانگ لیا۔

اس موقع پر انہوں نے بریکنگ نیوز دیتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب سے موخر ادائیگیوں  پر 3.2 ارب ڈالر کی سالانہ تیل کی فراہمی کا معاہدہ رواں سال مئی میں ختم ہو چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق معاہدے کی تجدید کے لیے وزارت خزانہ کے رابطے کا سعودی عرب نے مثبت جواب نہیں دیا۔ کامران یوسف نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کے بعد دفتر خارجہ میں تمام متعلقہ لوگوں کا متفقہ ردعمل ہے کہ وزیر خارجہ نے یہ بیان دے کر پاکستان کو خود بخود کارنر کر لیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کشمیر پر سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک سے حمایت نہیں ملی، مگر سفارتکاری اس طریقے سے نہیں کی جاتی۔ سعودی عرب اس بیان کا جائزہ لے رہا ہے اور وہ جلد ہی پاکستان سے وضاحت مانگ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ او آئی سی کے 47 رکن ممالک سعودی عرب کے کہنے پر آگے چلتے ہیں، سعودیہ کی مخالفت مول لے کر یا اس کو ناراض کر کے اپنے لیے مزید مسائل پیدا کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 879128
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش