1
Sunday 9 Aug 2020 20:48

اہلسنت مکاتب فکر کی آل پارٹیز کانفرنس، تحفظ بنیاد اسلام بل کی حمایت

اہلسنت مکاتب فکر کی آل پارٹیز کانفرنس، تحفظ بنیاد اسلام بل کی حمایت
اسلام ٹائمز۔ تکفیری عناصر کو پنجاب اسمبلی میں پیش کردہ متنازع بل کے مقاصد ملنے لگے، پاکستان میں اُمت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ اہل تشیع کی جانب سے بل کی مخالفت کے بعد اہلسنت جماعتوں نے بل کی حمایت کر دی۔ مسلم ٹاون لاہور میں مجلسِ احرارِ اسلام پاکستان کے مرکزی دفتر میں اہلسنت مکاتب فکر کی آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں لیاقت بلوچ، مولانا احمد لدھیانوی، مولانا عبدالرؤف فاروقی، ابتسام الہی ظہیر، قاری زوار بہادر، مولانا زبیر احمد ظہیر سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔ اہلسنت اے پی سی کے شرکاء نے پنجاب اسمبلی کے تحفظ بنیاد اسلام بل کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بل کے حوالے سے منفی تاثر مشترکہ موقف کے منافی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔

رہنماوں نے کہا کہ مقدس ہستیوں کے تقدس کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔ شرکاء نے زور دیا کہ اہلسنت کے عقائد، صحابہ کرام و اہلبیت علیہ السلام کی ناموس کیلئے مختلف جماعتوں کو مشترکہ جدوجہد کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے ’’کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ناموس صحابہ و اہلبیت‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور کل جماعتی تحفظ ختم نبوت کی طرز پر ’’کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ناموس صحابہ واہل بیت‘‘ کے قیام کا اختیار مولانا عبدالرؤف فاروقی کو دے دیا گیا، مولانا عبدالرؤف فاروقی ہم خیال جماعتوں کا اجلاس طلب کرکے اہلسنت کا مشترکہ فورم تشکیل دینے کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔ کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران دینی اجتماعات کے حوالے سے تفریق درست نہیں، خاندان نبوت و اہلبیت تمام مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہے، اہلسنت کو بھی محرم الحرام کے دوران اجتماعات کے انعقاد کا حق دیا جائے۔

اہلسنت اے پی سی کے شرکاء نے کہا کہ بنیاد اسلام بل میں تحقیقی و علمی سرگرمیوں، اشاعتی اداروں، محققین و مصنفین کے تحفظات کو دُور کیا جائے، متنازع مواد کو افسران کی بجائے متحدہ علماء بورڈ کے ذریعے چیک کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ رہنماوں کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے بنیاد اسلام بل پر تمام مکاتب فکر کو اعتماد میں لیا جائے۔ کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ آصف اشرف جلالی کیخلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے، اسے خارج کرکے فوری طور پر اشرف جلالی کو رہا کیا جائے۔ کانفرنس میں کراچی میں جماعت اسلامی کی ریلی پر کریکر حملے کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ کانفرنس میں لاہور کی مسجد وزیر خان میں فلم کی شوٹنگ کے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے رہنماوں نے ذمہ دار افسران کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

کانفرنس میں پشاور میں گستاخ رسول طاہر نسیم کے قتل پر امریکی ردعمل کو مسلمانوں کے ایمان اور جذبات کے منافی اور پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی اور گستاخ رسول طاہر نسیم کو قتل کرنیوالے فیصل خالد کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ جب تک قانون اپنا کردار ادا نہیں کرتا اور سرکاری ادارے ناموس رسالت کے تحفظ کے سلسلہ میں سنجیدگی اختیار نہیں کرتے تب تک غیر مند نوجوانوں کو ایسے ردعمل سے نہیں روکا جا سکتا۔ رہنماوں نے کہا کہ پشاور جیسے واقعات کا واحد حل تحفظ ناموس رسالت قانون پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے اور عدالت گستاخ ثابت ہونے والے مجرموں کو قانون کے مطابق سزائیں دیں۔
خبر کا کوڈ : 879234
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش