1
Friday 14 Aug 2020 01:22

عرب امارات، اسرائیل میں کیا معاہدہ ہوا، ثالث کون بنا؟

عرب امارات، اسرائیل میں کیا معاہدہ ہوا، ثالث کون بنا؟
اسلام ٹائمز۔ متحدہ عرب امارات نے عالم اسلام خصوصاً مظلوم فلسطینوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ نام نہاد امن معاہدے کے نام پر باقاعدہ تعلقات کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ یو اے ای کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زائد اور صیہونی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے مابین تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانے کیلئے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ عرب امارات کے اس اقدام کے بعد خلیجی ممالک کی جانب سے صیہونی ریاست کے ساتھ باقاعدہ تعلقات قائم کرنے کی شروعات ہوگئی ہیں اور قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب بھی جلد عرب امارات طرز کا معاہدہ کریگا اور صیہونی ریاست کے ساتھ باقاعدہ تعلقات قائم کرنے کا اعلان کریگا، کیونکہ صیہونی ریاست اور سعودی عرب میں پہلے سے ہی خفیہ تعلقات و روابط قائم ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین کیا معاہدہ ہوا؟
 امریکی صدر نے امریکہ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کا مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت اور متحدہ عرب امارات کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے ضروری انتظامات کیے گئے ہیں، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے وفود آئندہ چند ہفتوں میں دو طرفہ سرمایہ کاری، سیاحت اور دیگر معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ دونوں ممالک کے مابین براہ راست پروازیں ہوں گی، سکیورٹی، مواصلات، ٹیکنالوجی، توانائی، صحت، ثقافت، ماحولیات کے شعبوں میں تعاون سمیت باقاعدہ سفارتخانے کھولنے کا بھی آغاز کرینگے۔ امریکہ، متحدہ عرب امارات اور صیہونی حکومت کے مشترکہ بیان میں متحدہ عرب امارات اور صہیونی حکومت کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے کی انتہائی اہم دفعات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

معاہدے پر جلد ہی وائٹ ہاؤس میں سینیئر عہدیداروں کے دستخط ہوں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ "متحدہ عرب امارات کی حمایت کے ساتھ امریکی صدر کی درخواست پر اسرائیل، فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے بڑے حصوں کو منسلک کرنے کے اپنے منصوبوں کو معطل کر دے گا، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری اور علاج کے عمل میں تیزی سے اپنے تعاون کو وسعت اور تیز کریں گے۔ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سفارتی، تجارت اور سکیورٹی تعاون کو بڑھانے کے لئے ایک اسٹریٹجک منصوبے کا آغاز کرینگے، جس میں امریکہ بھی شامل ہوگا۔"

ثالث کون بنا؟
ادھر اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے عوض مغربی کنارے کے دیگر حصوں کے الحاق کا منصوبہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ صہیونی ٹی وی چینل 12 نے اعلان کیا کہ تل ابیب نے ابوظہبی کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے بدلے الحاق کے منصوبے کو ملتوی کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم صیہونی وزیراعظم کی پریس کانفرنس میں الحاق کے منصوبے کو ملتوی کرنے کا واضح اعلان نہیں کیا گیا بلکہ کہا گیا کہ ابھی یہ منصوبہ مدنظر ہے۔ اسرائیلی چینل نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی نژاد ارب پتی ہیم سبان معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ نے اطلاع دی ہے کہ اگلے ہفتے نیتن یاہو اور محمد بن زید کے مابین ملاقات کے لئے رابطے کیے گئے تھے، جس دوران ایک معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔

معاہدے پر وائٹ ہاؤس کا بیان
وائٹ ہاؤس نے بھی اعلان کیا ہے کہ اماراتی عہدیدار اور اسرائیلی حکومت آئندہ ہفتوں میں ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے جلد ملاقات کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اسرائیلی حکومت اور متحدہ عرب امارات کورونا وائرس کے لئے ویکسین تیار کرنے کے لئے باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کریں گے۔ وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ہونے والے معاہدے میں سکیورٹی اور سرمایہ کاری کے امور کے علاوہ سفارت خانوں کا قیام اور براہ راست پروازیں شامل ہوں گی۔

مائیک پومپیو اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا ردعمل
متحدہ عرب امارات اور صہیونی حکومت کے مابین معاہدے کے اعلان کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے ٹویٹ کیا کہ یہ معاہدہ "ایک عظیم کارنامہ اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لئے ایک اہم قدم ہے۔" امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے بھی اعلان کیا کہ وہائٹ ​​ہاؤس، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات معمول پر لانے کے لئے معاہدے پر باضابطہ دستخط کی میزبانی کرے گا۔

 متحدہ عرب امارات کا موقف
دریں اثناء ابو ظہبی کے ولی عہد نے انوکھا موقف اختیار کیا کہ ان کے اور ٹرمپ اور نیتن یاہو کے مابین رابطوں نے مغربی کنارے کو اسرائیلی حکومت سے الحاق کرنے کے منصوبوں کو روک دیا ہے۔ امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر نے بھی کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین ہونے والے معاہدے سے دو ریاستوں کے حل کو تحفظ حاصل ہوگا۔ متحدہ عرب امارات کے خارجہ پالیسی کے مشیر انور غرغاش نے کہا "ہم مغربی کنارے کے حصوں کے الحاق اور امن عمل کو بحال کرنے کا ایک نیا موقع فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

متحدہ عرب امارات کی وزارت برائے امور خارجہ کا بیان
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ دونوں اماراتی اور اسرائیلی وفود دوطرفہ معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے اگلے ہفتے ملاقات کریں گے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ توانائی، سیاحت، براہ راست پروازیں، سرمایہ کاری، سلامتی اور مواصلات سے متعلق ہوگا۔

بنیامین نیتن یاہو اور السیسی کا ردعمل
صیہونی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے بھی متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے کو تاریخی دن قرار دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ معاہدے میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات شامل ہوں گے۔ ادھر مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ہونے والے معاہدے اور مغربی کنارے کے کچھ حصوں کے الحاق کی معطلی کی حمایت کر دی۔ دوسری جانب اس معاہدے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا "متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا معاہدہ دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدوں کا ایک راستہ ہے۔"

معاہدہ ہتھیار ڈالنا ہے، جہاد اسلامی
فلسطین کی مزاحمتی تحریک اسلامی جہاد نے نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے اعلان کے ردعمل میں کہا ہے کہ تعلقات کو معمول پر لانا ایک طرح سے ہتھیار ڈالنا ہے، یہ معاہدہ تنازعہ کی حقیقتوں کو تبدیل نہیں کرے گا بلکہ قابض صیہونی ریاست کے دہشت گردانہ مزاج میں اضافہ کرے گا۔ فلسطینی اسلامی جہاد تحریک کے میڈیا چیف دائود شہاب نے اس معاہدے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یروشلم میں متحدہ عرب امارات اور قابض حکومت کے مابین معاہدہ قومی اتفاق رائے اور امت اسلامیہ کے اصولوں سے غداری ہے۔

حماس کا ردعمل: ''عرب امارات اور اسرائیل نے صیہونی قبضہ جاری رکھنے کا معاہدہ کیا''
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے صیہونی قبضہ جاری رکھنے کا معاہدہ کیا ہے، یہ معاہدہ مسئلہ فلسطین کو حل نہیں کرتا بلکہ قابضین کو فلسیطینی عوام کے حقوق مزید غصب کرنے کی ترغیب دیگا۔ حماس کے ترجمان نے المیادین چینل کو بتایا کہ یہ معاہدہ قابض حکومت کو فلسطینی عوام کے خلاف مزید جرائم کا ارتکاب کرنے کی ترغیب دے گا۔

فلسطینی مزاحمتی کمیٹی: معاہدہ ملت اسلامیہ کیلئے زہریلا خنجر ہے
متحدہ عرب امارات اور صیہونی حکومت کے مابین معاہدے کے جواب میں فلسطینی مزاحمتی تحریکوں نے زور دے کر کہا ہے کہ یہ معاہدہ ہماری قوم اور ہمارے مقصد کے خلاف سازش کی حد کو ظاہر کرتا ہے۔ فلسطینی مزاحمتی کمیٹیوں نے مزید کہا: "یہ معاہدہ امت اسلامیہ اور اس امت کی تاریخ کے لئے ایک زہریلا خنجر ہے۔" فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے ترجمان ابو مجاہد نے کہا ہے کہ صرف فلسطینی عوام ہی الحاق کے منصوبے کو روک سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات اسرائیل معاہدہ فلسطینی عوام کے لئے خنجر ہے۔ ابو مجاہد نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی فلسطینی نے متحدہ عرب امارات کو مغربی کنارے کے الحاق کے منصوبے کا مقابلہ کرنے میں کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔

تنظیم آزادی فلسطین کا ردعمل
یو اے ای اسرائیل کے معاہدے کے جواب میں تنظیم آزادی فلسطین نے کہا ہے کہ خفیہ بات چیت کے ذریعے اسرائیل کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایوارڈ دیا گیا ہے۔ فتح موومنٹ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کا معاہدہ تمام عرب ممالک کے ساتھ غداری ہے، فتح تحریک کی مرکزی کمیٹی کے رکن عباس ذکی نے تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے معاہدے کو تمام عرب ممالک کے حقوق کے ساتھ غداری قرار دیا۔

معاہدہ مسجد اقصیٰ کیساتھ غداری ہے، فلسطینی اتھارٹی
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے جواب میں فلسطینی اتھارٹی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا دشمن سے تعلقات معمول پر لانے کا فیصلہ مسجد اقصیٰ اور فلسطینی نظریات کے ساتھ غداری اور بیت المقدس کو صہیونی حکومت کا دارالحکومت تسلیم کرنا ہے۔
خبر کا کوڈ : 880132
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش