0
Saturday 15 Aug 2020 09:24
جن کو حق و باطل میں فرق معلوم نہ ہو، وہ حکمت سے بے بہرا ہوتے ہیں

بے بصیرت قیادت پیروکاروں کو گمراہ کر دیتی ہے، علامہ جواد نقوی

پاکستانی حکمرانوں کے اندر تدبیر دور سے بھی نظر نہیں آتی، خصوصی خطاب
بے بصیرت قیادت پیروکاروں کو گمراہ کر دیتی ہے، علامہ جواد نقوی
اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری اُمت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے لاہور کے جامعہ عروۃ الوثقیٰ کی مسجد بیت العتیق میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بے بصیرت قیادت پیروکاروں کو گمراہ کر دیتی ہے، ہدف کے حصول کیلئے قیادت کا بابصیرت ہونا لازم ہے، قیادت بے بصیرت ہوگی تو نہ خود منزل پر پہنچے گی نہ پیروکاروں کو لے کر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تدبیر ایک وصف ہے جس کا ہونا قائد کیلئے ضروری ہے، اسی تدبیر کو ہی پلاننگ کہا جاتا ہے کہ انسان ذہنی طور پر اتنا پختہ ہو کہ تشخیص دے سکتا ہو، تشخیص کے بعد مشکل کی تشکیل دے سکتا ہو، مشکل کے بعد حل کو تشخیص دے سکتا ہو اور پھر اس راہ کے لوازمات، اس راہ کے تقاضوں کو عملی کرنے کیلئے تدبیر بھی کر سکتا ہو۔

انہوں نے کہا کہ حکمت، جس کے اندر فیصلے کی صلاحیت ہو، فیصلہ کن رائے رکھتا ہو، اس کو حکمت کہا جاتا ہے۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ خدا نے انبیاء کو، آئمہ کو رہبروں کو حکمت عطا کی ہے، حکم، حکمت یعنی دو ٹوک بات کرنا، ایسی بات کہ حق و باطل میں مکمل طور پر فرق واضح ہو جائے، ان کا اختلاط ختم ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ جن کو حق و باطل میں فرق معلوم نہ ہو، وہ حکمت سے بے بہرا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی رائے، ایسا فیصلہ، ایسی دانائی، جس سے حق و باطل کا اختلاط ختم ہو جائے، حکیم کے پاس حکمت کا ہونا بہت ضروری ہے، دو ٹوک فیصلہ کر سکتا ہو اور یہ فیصلہ حقیقت کے مطابق بھی ہو اور پھر جب حق باطل کو درست سمجھ لیتا ہو تو اب ہدف اور مقصد کے حصول کیلئے جو راستہ طے کرنا ہے جو مراحل طے کرنے ہیں، اس کیلئے تدبیر بھی کر سکتا ہو۔

انہوں نے کہا کہ تمام طرق، اسباب اور وسائل استعمال کر کے بہترین نتیجہ اخذ کر سکتا ہو۔ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ بعض افراد تمام وسائل و اسباب کے ہوتے ہوئے بھی نتیجہ نہیں لے سکتے تو یہاں کمی صرف تدبیر کی ہے، جیسے پاکستان کی صورتحال ہے، پاکستانی حکمرانوں کے اندر تدبیر دور سے بھی نظر نہیں آتی، جب تدبیر نہ ہو تو رشد نہیں ہوتا، رشد کیلئے بصیرت چاہیے، بصیرت ایک اندرونی روشنی کا نام ہے، آنکھوں کے نور کو بصارت کہا جاتا ہے، اسی طرح خدا نے جو دل اور ذہن روح کیلئے جو نورانیت رکھی ہے وہ بصیرت ہے، اندرونی نورانیت جس سے انسان معنوی حقائق کو  تشخیص دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر معظم نے کئی دفعہ تاکید فرمائی ہے کہ خواص کے اندر بصیرت کا ہونا لازمی ہے، اگر خواص بے بصیرت ہوں تو قوم و ملت برباد ہو جاتے ہیں، خصوصاً حکمرانوں میں اگر یہ نورانیت نہ ہو تو یہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں، لہذا وہ افراد جن کے ہاتھ میں قوم و ملت کی زمام ہوتی ہے، ان کا بابصیرت ہونا لازمی ہے، جبکہ حکمت یہ بصیرت سے ہٹ کر علیحدہ صلاحیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکمت دو مخلوط چیزوں میں فاصلہ ڈال دینا، حق باطل کو جدا کرنے کی صلاحیت کا نام ہے، اس کے مقابل حماقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماقت یعنی یا سب اچھا ہے، یا سب بُرا لگ رہا ہے، یعنی فرق معلوم نہیں ہوتا، الگ کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، انسان کا حقیقت کو غیر حقیقت سے تشخیص نہ دے سکنا، حقیقت کو افسانے سے الگ نہ کر سکنا۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ یہ عوام پر منحصر ہے کہ ایسے حکمرانوں اور قائدین کا انتخاب کریں جو بابصیرت اور صاحب حکمت ہو، تبھی منزل ملے گی بصورت دیگر کوہلو کے بیل کی طرح سفر جاری رہے گا مگر منزل کبھی نہیں آئے گی۔
خبر کا کوڈ : 880342
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش