1
Sunday 27 Sep 2020 22:19

امریکہ نے عراق کے اندر موجود اپنا سفارتخانہ بند کرنیکا فیصلہ کر لیا ہے، عرب میڈیا

امریکہ نے عراق کے اندر موجود اپنا سفارتخانہ بند کرنیکا فیصلہ کر لیا ہے، عرب میڈیا
اسلام ٹائمز۔ عرب نیوز چینل المیادین کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ نے عراق کے اندر موجود اپنے سفارتخانوں کو بند کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو بھی یہ بتا دیا ہے کہ اس نے عراق کے اندر موجود اپنے سفارتخانوں کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ نے فیصلہ کیا ہے کہ عراق میں اپنے سفارتخانوں کو مکمل طور پر بند کرنے سے قبل ایک مرتبہ پھر صورتحال کا جائزہ لے گا جبکہ عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے صورتحال کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لئے جانے کے بعد وہ عراق میں موجود اپنے سفارتخانوں کو بند کرنے کے فیصلے سے دستبردار ہو جائے گا۔

عراقی صدر برہم صالح نے بھی اس حوالے سے ملکی اعلی عسکری قیادت اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملاقات میں برملا کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے امریکی سفارتخانے سمیت سفارتی مراکز اور فوجی قافلوں پر حملوں کے تسلسل کے حوالے سے انہیں خبردار کیا ہے۔ برہم صالح نے مائیک پمپیو کا یہ قول نقل کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بغداد میں امریکی سفارتخانے کو بند کرنے پر سنجیدہ غور کر رہے ہیں اور اس کام کے لئے وہ مکمل طور پر تیار ہیں۔ عراقی صدر کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے دھمکاتے ہوئے کہا کہ شاید ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان تمام فریقوں کے خلاف وسیع جنگ چھیڑ دی جائے جو ہمارے فوجیوں کی قتل و غارت میں ملوث ہیں۔

عراقی صدر کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ کی ملاقات میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ مائیک پمپیو نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ بغداد میں موجود امریکی سفارتخانے کا بند ہو جانا عراق کے مستقبل کے لئے انتہائی بُرا ہے۔ مائیک پمپیو نے مزید کہا کہ یہ (عراقی) حکومت کو دیا جانے والا آخری انتباہ ہے تاکہ وہ ان گروہوں کو گرفتار کر لے۔ واضح رہے کہ بغداد کی بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ایرانی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المہندس کو امریکی ٹارگٹ کلنگ کی ایک کارروائی میں رفقاء سمیت شہید کر دیئے جانے کے بعد عراقی پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت کے ساتھ ایک قرارداد منظور کر لی گئی تھی جس میں عراق کے اندر موجود تمام امریکی فورسز کو فوری طور پر ملک چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا تھا تاہم امریکی دباؤ کے باعث اس قرارداد پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔
خبر کا کوڈ : 888784
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش