0
Thursday 15 Oct 2020 04:55

مقبوضہ فلسطین کیساتھ لبنانی سرحد کے بارے میں پہلی بالواسطہ مذاکراتی نشست

مقبوضہ فلسطین کیساتھ لبنانی سرحد کے بارے میں پہلی بالواسطہ مذاکراتی نشست
اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) کے ساتھ لبنانی سرحد کے بارے میں بالواسطہ مذاکرات کی پہلی نشست لبنان میں تعینات "یونیفل" فورسز کے ہیڈ کوارٹر میں انجام پائی۔ لبنانی سرکاری خبررساں ایجنسی این این ای کے مطابق لبنانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل بسام یسین نے اس حوالے سے شہر "ناقورہ" میں موجود خبرنگاروں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کی ملاقات میں مقبوضہ فلسطین کے ساتھ موجود سرحدی تنازعات کے بارے میں تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے جبکہ یہ 1 ہزار میل طولانی جنوبی سرحد کو متعین کرنے کے لئے اٹھایا گیا پہلا قدم ہے۔ بسام یسین کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ملکی مفاد کی خاطر چاہتے ہیں کہ مذاکرات کا یہ دور تیزی کے ساتھ آگے بڑھے، تاکہ یہ مسئلہ ایک معقول وقت کے اندر حل کر دیا جائے۔

لبنانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم یہاں جمع ہوئے ہیں، تاکہ لبنانی سمندری حدود کو بین الاقوامی قوانین، 1949ء میں ہمارے اور (غاصب صیہونی رژیم) اسرائیل کے درمیان پانے والی سیز فائر اور 1929ء میں طے پانے والے پاؤلیٹ – نیو کامب معاہدے (Paulet–Newcombe Agreement) کے تحت اس بارڈر لائن پر مذاکرات کریں، جو "رأس الناقورہ" سے شروع ہوتی ہے۔ بسام یسین نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ لبنان دوسرے فریقوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور ہونیوالی گفتگو کے خفیہ رکھنے کے پابند رہیں، کہا کہ لبنانی سیاسی قیادت کے اتفاق نظر کے بعد سرحدی تقسیم کا آخری فارمولا طے کر لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ امریکی ثالثی کے ساتھ انجام پانے والے یہ مذاکرات ہر 2 ہفتوں میں ایک بار انجام پائیں گے جبکہ اس سلسلے میں مذاکرات کا اگلی نشست 28 اکتوبر کے روز بلائی گئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 892109
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش