1
Thursday 15 Oct 2020 23:58

ایران کیساتھ گہرے تعلقات ہیں جبکہ سعودی رژیم ہمارے ساتھیوں کو جیلوں میں ڈال رہی ہے، اسامہ حمدان

ایران کیساتھ گہرے تعلقات ہیں جبکہ سعودی رژیم ہمارے ساتھیوں کو جیلوں میں ڈال رہی ہے، اسامہ حمدان
اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے سیکرٹری خارجہ تعلقات اسامہ حمدان نے میڈیا کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں حماس کی خارجہ پالیسی پر گفتگو کی ہے۔ عرب ای مجلے الرسالہ کے مطابق اسامہ حمدان نے اپنی گفتگو میں کہا ہے کہ غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ دوستیاں بڑھانے والے ممالک جیسے چاہیں صیہونی رژیم کے ساتھ تعلقات استوار کریں لیکن یہ ضرور جان لیں کہ وہ بچوں کی قاتل اس رژیم کے ساتھ اپنی دوستی کے یہ معاہدے، نہ صرف اسرائیل کے ہاتھوں مزید فلسطینی سرزمین پر قبضے بلکہ اپنی سرزمین بھی اسرائیل کے حوالے کرنے کی قیمت پر دستخط کر رہے ہیں۔

حماس کے سیکرٹری برائے تعلقاتِ خارجہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ حماس کے انتہائی قریبی تعلقات وابستہ ہیں، جس کے مقاصد بھی متعین شدہ اور واضح ہیں جبکہ کوئی طاقت ایران کے ساتھ قریبی تعلقات پر حماس کا مواخذہ نہیں کرسکتی،
تاہم فلسطین اور اس کے عوام کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لینے والا فریق مواخذے کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔ اسامہ حمدان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حماس ہر قسم کی حمایت کا خیر مقدم کرتی ہے اور اپنی مدد کرنے والے ہر فریق کو کھلم کھلا سراہتی ہے جبکہ وہ ممالک جو مدد کرنے کی توانائی نہیں رکھتے، ہمیں ان سے کوئی توقع بھی نہیں۔ انہوں نے امت مسلمہ کے ساتھ غداری کرنے والے بعض مسلم ممالک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک نہ صرف فلسطینی مزاحمتی محاذ کی مدد کرنا نہیں چاہتے بلکہ وہ ہمارے خلاف دشمن کا ہاتھ بھی بٹاتے ہیں؛ ان سے پوچھا جانا چاہیئے کہ کیا تم چاہتے ہو کہ ہم قابض قوتوں کے سامنے سر جھکا لیں۔؟

اسامہ حمدان نے اپنے انٹرویو کے ایک حصے میں دوبارہ تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ حماس کے انتہائی اعلیٰ تعلقات استوار ہیں اور اسی طرح (لبنانی مزاحمتی فورس) حزب اللہ سمیت
پورے مزاحمتی محاذ کے ساتھ بھی حماس کے انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض قوتوں کو ہمارے یہ تعلقات اچھے نہیں لگتے جبکہ ہم بھی ان ممالک کو ایران اور مزاحمتی محاذ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کے حوالے راضی کرنے پر مجبور نہیں، جنہوں نے غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ دوستیاں بنا رکھی ہیں۔ اسامہ حمدان نے اس سوال کہ حماس کے ساتھ سعودی شاہی رژیم کی کیا دشمنی ہے؟ کے جواب میں حجاز پر قابض سعودی شاہی رژیم کے ہاتھوں حماس کے متعدد مرکزی رہنماؤں، خصوصی نمائندوں اور حامیوں کے قید کر لئے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کا جواب سعودی شاہی حکام کو دینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پوری امتِ مسلمہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہرگز کسی فریق کے زیرنگیں نہیں ہونا چاہتے جبکہ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ حماس کسی کی کٹھ پتلی بن گئی ہے تو وہ سخت وہم کا
شکار ہے۔

حماس کے مرکزی رہنماء نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی شاہی رژیم ایک ایسے شخص کے خلاف مقدمات چلا رہی ہے، جو گذشتہ 10 سالوں سے زائد کے عرصے سے اس کے پاس حماس کے خصوصی نمائندے و سفیر کی حیثیت سے موجود ہے، جبکہ اس کی تمام سرگرمیاں ریاض کی مکمل رضامندی اور اتفاق کے ساتھ انجام پاتی رہی ہیں۔ اسامہ حمدان نے کہا کہ (سعودی عرب میں قید حماس کے سفیر) ڈاکٹر محمد خضری کی حجاز میں موجودگی کوئی ایسی بات نہیں، جو ابلاغ عامہ سے ڈھکی چھپی ہو جبکہ ہم ڈاکٹر محمد الخضری سمیت سعودی شاہی رژیم کی جانب سے قید کئے گئے فلسطینی مزاحمتی محاذ کے تمام حامیوں کی جلد از جلد آزادی کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی شاہی رژیم کی جانب سے ان افراد پر "فلسطینی مزاحمتی محاذ کی حمایت" کا الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ یہ کوئی الزام نہیں بلکہ "طرۂ امتیاز" ہے۔
خبر کا کوڈ : 892286
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش