0
Monday 19 Oct 2020 22:42

چیف کورٹ گلگت نے چیف الیکشن کمشنر کو سرکاری امور میں مداخلت سے روک دیا

چیف کورٹ گلگت نے چیف الیکشن کمشنر کو سرکاری امور میں مداخلت سے روک دیا
اسلام ٹائمز۔ چیف کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جج ملک حق نواز کی سربراہی میں جسٹس علی بیگ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ایک رٹ پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو سرکاری محکموں کے اندرونی امور، ترقیاتی منصوبوں پر ٹینڈرز اور سرکاری ملازمین کے تبادلوں میں غیر ضروری مداخلت سے روک دیا اور گلگت بلتستان کے سرکاری محکموں کے اندرونی امور، ملازمین کے تبادلے، منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں پر ٹینڈرز پر کام شروع کرنے سمیت ہر قسم کے سرکاری امور کی انجام دہی کے لئے چیف الیکشن کی رضامندی کی شرط ختم کر کے الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 10 کے اختیارات کو الیکشن امور تک محدود کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ الیکشن امور کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر کے غیر قانونی، زبانی اور تحریری احکامات کی تعمیل کی صورت میں سیکرٹری سمیت ماتحت افسران کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیکر کارروائی ہوگی۔ عدالت نے چیف سیکرٹری کو گلگت بلتستان کے سرکاری محکموں کے اندرونی امور پر چیف الیکشن کمشنر کی مداخلت کی سختی سے نگرانی کا بھی حکم دیا۔

چیف کورٹ نے تمام محکموں کے سیکرٹریز کو حکم دیا ہے کہ 15 دنوں میں چیف الیکشن کمشنر کے حکم یا انکی رضامندی سے سرکاری ملازمین کے تبادلے کے بارے میں تفصیلی رپورٹ عدالت کو پیش کریں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 10 میں چیف الیکشن کمشنر کو محض انتخابی امور اور معاملات میں کسی قسم کی مداخلت اور حکم عدولی پر توہین عدالت کی کارروائی کے اختیارات حاصل ہیں۔ چیف کورٹ نے الیکشن امور کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر کی سرکاری محکموں کے امور میں مداخلت، انکی رضامندی اور منشاء کے مطابق سرکاری ملازمین کے تبادلے، منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں پر ٹینڈرز اور کام شروع کرنے سمیت دیگر امور پر اجازت کے حصول کو غیر ضروری اور بےجا مداخلت قرار دیا اور کہا کہ آئندہ کوئی بھی سیکرٹری یا ماتحت افسران الیکشن امور کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر کے غیر قانونی زبانی یا تحریری احکامات کی تعمیل عدالت کے نوٹس میں آئیں تو متعلقہ سیکرٹریز اور افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو گی۔
 
خبر کا کوڈ : 892968
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش