0
Wednesday 28 Oct 2020 21:19
فرانس کیجانب سے توہین آمیز خاکوں کی کھلی حمایت

تہران، فرانسیسی سفارتخانے کے سامنے دھرنا، فرانس کا پرچم اور میکرون کے پتلے نذرآتش

تہران، فرانسیسی سفارتخانے کے سامنے دھرنا، فرانس کا پرچم اور میکرون کے پتلے نذرآتش
اسلام ٹائمز۔ فرانس کی جانب سے حضرت سرور کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، دین مبین اسلام اور دوسرے الہی ادیان کی منظم گستاخیوں پر ایران کی طلبہ تنظیموں کی جانب سے دارالحکومت تہران میں واقع فرانسیسی سفارتخانے کے سامنے دھرنا دیا گیا۔ ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق اس دھرنے میں شریک ایرانی طلاب علم و عوام کے ایک عظیم اجتماع کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فرانسیسی توہین آمیز اقدامات کے جواب میں فرانس کے سفیر کو فوری طور پر ملک سے نکال دے۔ اس دوران احتجاجی مظاہرین نے "کُتے کے چاٹے سے سمندر نجس نہیں ہوتا"، "محمدؐ پر سلام"، "ہم سب رسول اللہ (ص) کی اُمت ہیں"، "فرانس کا ابلیس میکرون ہے!" اور "مرگ بر فرانس" جیسے نعرے لگائے اور فرانسیسی صدر امانوئل میکرون کے پتلے و فرانسیسی پرچم نذرآتش کئے ہیں۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر "امانوئل رُشدی!" اور "راہ چلتی جدید جاہلیت" جیسے نعرے درج تھے۔

تجمع در پی توهین به پیامبر اسلام(ص)/ عکس مکرون و پرچم فرانسه در آتش خشم مردم و دانشجویان سوخت
تہران میں فرانسیسی سفارتخانے کے سامنے دیئے جانے والے اجتجاجی دھرنے میں ایرانی عوام سمیت پوری امت مسلمہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر فرانسیسی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کر دیں جبکہ اس اجتماع سے سنی شیعہ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے اَحمق فرانسیسی صدر کو "شیطانِ مجسم" اور اس کے بےبنیاد خیالات کو "جدید جاہلیت" قرار دیا۔ اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ عالم دین حجت الاسلام علی سرلک اور سنی عالم دین ماموستا جہاندار نے توہین آمیز خاکوں کی حمایت پر مبنی فرانسیسی صدر کے بیان کی شدید مذمت کی۔ حجت اسلام علی سرلک نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے پیارے نبیؐ، نبیِ رحمتؐ ہیں جبکہ میکرون کی یہ سوچ خام خیالی ہے کہ وہ آپؐ کی توہین کے ذریعے رحمت پر مبنی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیغام "اسلام" کو پھیلنے سے روک پائے گا۔


خبر کا کوڈ : 894609
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش