?>?> پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کی پالیسیوں میں کوئی اختلافات نہیں، سراج الحق - اسلام ٹائمز
0
Sunday 22 Nov 2020 20:15
پورے ملک کے عوام حکومت پر لعنتیں بھیج رہے ہیں

پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کی پالیسیوں میں کوئی اختلافات نہیں، سراج الحق

پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کی پالیسیوں میں کوئی اختلافات نہیں، سراج الحق
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کی پالیسیوں میں کوئی اختلافات نہیں، یہ صرف اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہونے اور دودھ کی بوتل کے لیے لڑ رہے ہیں۔ پی ڈی ایم کا مقصد عوام کے مسائل کا حل نہیں بلکہ چند خاندانوں کی سیاست کو زندہ رکھنا ہے۔ لوگوں کو مافیاز، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور ٹھیکیداروں کی سیاست سے کچھ نہیں ملے گا۔ عوام تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف چاہتے ہیں تو انہیں نظام مصطفےٰ (ص) کے نفاذ کے لیے جماعت اسلامی کے دست و باز بننا ہوگا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گراسی گراﺅنڈ سوات میں بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ سے امیر جماعت اسلامی کے پی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر عبدالواسع، محمد امین، بختیار معانی، ڈاکٹر خالد محمود، مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف و دیگر بھی موجود تھے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان الیکشن پر بھی پی پی اور نون لیگ رو رہی ہیں۔ اصل خرابی انتخابی نظام میں ہے جب تک انتخابی نظام شفاف اور غیر جانبدار اور پولنگ اسٹیشن آزاد نہیں ہوتے، عوام کا انتخابی نظام پر اعتماد بحال نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں انتخابی نظام کی اصلاح اور شفافیت پر متحد ہو جائیں تو خرابیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے اور پھر کوئی الیکشن کو یرغمال بنانے اور انتخابات چوری ہونے کا رونا نہیں روئے گا۔ جماعت اسلامی کی مہنگائی بے روزگاری کے خلاف تحریک کامیابی سے ہمکنار ہو کر رہے گی، ہم غریب کسانوں، مزدوروں اور بے روزگار نوجوانوں کی بات کر رہے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت 73 سالہ ملکی تاریخ کی نااہل اور ناکام ترین حکومت ہے، حکومت نے آٹھ سو دنوں میں آٹھ سو جھوٹ بولے اور اپنا کوئی ایک وعدہ پورا نہیں کیا۔ عمران خان کہتے تھے کہ میری حکومت کے خلاف عوام نے احتجاج کیا تو میں خود حکومت چھوڑ دوں گا مگر آج کراچی سے چترال تک پورے ملک کے عوام حکومت پر لعنتیں بھیج رہے ہیں مگر حکمران ٹس سے مس نہیں ہوتے اور ڈھٹائی کی تمام حدیں پار کر گئے ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں کہ بڑا لیڈر بننے کے لیے بڑے بڑے یوٹرن لینا پڑتے ہیں۔ انہوں نے جھوٹ کو یوٹرن کا نام دیدیا ہے، وزیراعظم نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آ کر گورنر ہاﺅسز کو یونیورسٹیاں بنادیں گے، پچاس لاکھ بے گھروں کو چھت اور ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار دیں گے مگر کوئی ایک گورنر ہاﺅس یونیورسٹی نہیں بنا، ہزاروں لوگوں کے سروں سے چھت چھین لی گئی اور 35 لاکھ لوگوں کو بے روزگار کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آج عوام مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ ہیں اور حکمرانوں کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دے رہے ہیں، چھوٹے لوگ بڑی کرسیوں پر بیٹھ گئے ہیں جنہیں عوام کی پریشانیوں سے کوئی سروکار نہیں وہ چند دن موج میلہ کرنے آئے ہیں مگر اس کھیل تماشے میں ملک تباہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کا وعدہ کیا تھا مگر اس حکومت کے دور میں مسجدوں میں فلموں کی شوٹنگ کر کے مساجد کے تقدس کو پامال کیا گیا۔ مساجد اور مدارس کی توہین پر بھی حکمرانوں کو شرم نہیں آئی، کیا یہ ہے ریاست مدینہ؟۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت کی بزدلی کی وجہ سے کشمیر پر بھارت کو اپنا قبضہ مضبوط کرنے کا موقع ملا۔ وزیراعظم کہتے تھے کہ میرے پاس دو سو معاشی ماہرین کی ٹیم ہے، حکومت کے معاشی سقراط اور بقراط معیشت کو لے ڈوبے ہیں۔ حکومت کے پاس دو معاشی ماہرین تو کیا دو سو مرغیاں بھی نہیں تھیں یہی وجہ ہے کہ اب عوام کو انڈے بھی نہیں مل رہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا معاشی ویژن انڈے مرغی اور کٹے پر جا کر ختم ہوگیا۔ ملک قرضوں کی دلدل میں پھنس گیا ہے، قرضے جی ڈی پی کے 80 فیصد تک پہنچ گئے ہیں، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے ۔ روپیہ کاغذ کا بے وقعت ٹکڑا بن گیاہے اور وزیراعظم کہتے ہیںکہ معیشت اوپر جارہی ہے۔
خبر کا کوڈ : 899347
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش