0
Wednesday 25 Nov 2020 00:46
جنوبی پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا

حکومتی رکاوٹیں جیالوں کا راستہ نہیں روک سکتیں، جلسہ ضرور ہوگا، یوسف رضا گیلانی 

حکومتی رکاوٹیں جیالوں کا راستہ نہیں روک سکتیں، جلسہ ضرور ہوگا، یوسف رضا گیلانی 
اسلام ٹائمز۔ حکومت اجازت دے یا نہ دے، پی ڈی ایم کے تحت پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس کا جلسہ 30 نومبر کو ملتان میں ہو کر رہے گا، یہ ہمارا جمہوری و آئینی حق ہے۔ انتظامیہ سے گزارش ہے کہ حکومت کے غیر قانونی و غیر آئینی احکامات کو نہ مانیں، حکومت گرفتاریاں، کنٹینرز لگا کر راستے بند کرنے اور جلسے کو روکنے کے اقدامات سے گریز کرے۔ سب نے دیکھا کہ رکاوٹوں اور اجازت نہ دینے کے باوجود بھی پشاور میں تاریخی جلسہ ہوا، ایسے ہی ملتان میں شاندار تاریخی جلسہ ہوگا، یہ جلسہ ہمارے گذشتہ تاریخی جلسہ سے کہیں زیادہ بڑا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سابق یو سی چیئرمین ملک رضوان ہانس کے زیراہتمام پیپلزپارٹی ملتان سٹی کے صوبائی حلقہ 214 کے ورکرز کنونشن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2017ء میں تاریخی جلسہ ملتان میں ہوا تھا، اس وقت کا جلسہ پیپلزپارٹی نے اکیلے کیا تھا، اب پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتیں ہیں، اس لئے جتنا مجمع اسٹیڈیم میں ہوگا، اس سے کئی گنا زیادہ اسٹیڈیم کے باہر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز پشاور کا جلسہ بھی بہت بڑا تھا، مگر میڈیا کو روکا گیا کہ جلسہ نہ دکھایا جائے، ہمارے دور میں میڈیا آزاد تھا، ہمارے خلاف خبریں اس وقت بھی لگتی تھیں، آج بھی لگتی ہیں، لیکن ہم نے ہمیشہ میڈیا کا احترام کیا اور میڈیا کی آزادی کی بات کی۔ اسی میڈیا نے حکومتی جماعت کے 126 دن کے دھرنا کو دن رات کوریج دی، لیکن آج میڈیا پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف شروع کی گئی ہے، یہ تحریک انسانی حقوق، آئین پر عملدرآمد، غربت کے خاتمے اور صحافت کی آزادی کی جدوجہد کر رہی ہے۔ حکومت کا یہ کہنا کہ اپوزیشن کے جلسے کورونا میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں تو پھر یہ بتایا جائے کہ جہاں جلسے نہیں ہو رہے، وہاں پر کورونا میں اضافے کا ذمہ دار کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کتنے لوگوں کو گرفتار کرے گی، جیلوں میں تو اتنی گنجائش نہیں جتنی عوام ہے اور اگر گرفتار کرکے جیلوں میں رکھا تو اس سے کورونا پھیلنے کا خطرہ بڑھے گا۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکومت کو ایک مشورہ دیتا ہوں کہ ان کے وزراء اور مشیران گڈ گورننس پر توجہ دیں۔ کورونا پر بات کرنا وزیر صحت کا کام ہے، مگر یہاں تو سارے وزیر سب کام چھوڑ کر کورونا اور اپوزیشن پر بات کر رہے ہیں۔ حکومتی وزیر اطلاعات ہی اپوزیشن کو جواب دینے کے لیے ہوتا ہے، لیکن سارے وزراء ہی اسی کام میں لگ گئے ہیں، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے، لیکن حکومتی وزراء صرف پی ڈی ایم کی تحریک کو روکنے کیلئے دن رات لگے ہوئے ہیں، ہمارے دور میں خوشحالی تھی، ہم نے گندم کا ریٹ 1400 کیا، جس سے گندم ایکسپورٹ نہ ہوسکی اور ملک میں گندم وافر تھی۔ کسان خوشحال تھا، لیکن آج کسان بدحال ہے۔

حکومتی پالیسیوں نے زراعت کو برباد کر دیا ہے، ہر طبقہ پریشان و بے حال ہے، 30 نومبر کو ملتان کی فضا گو نیازی گو نیازی، پی ڈی ایم زندہ باد، قدم بڑھاو بلاول بھٹو زرداری ہم تمھارے ساتھ ہیں اور وزیراعظم بلاول کے نعروں سے گونج اٹھے گی، حکومتی رکاوٹیں جیالوں کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ جلسہ ضرور ہوگا اور جنوبی پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا۔ یہ جلسہ جنوبی ہنجاب کی محرومیوں کے خاتمے کیلئے امید کی کرن ثابت ہوگا، جنوبی پنجاب سے کئے گئے حکومتی جھوٹے وعدوں کا بدلہ عوام پی ڈی ایم کی تحریک کے ذریعے جلسہ میں شامل ہو کر عمران خان سے ضرور لے گی، جنوبی پنجاب کو پیپلزپارٹی صوبہ بنائے گی، اس خطہ کو الگ شناخت دینا ہمارے منشور میں شامل ہے۔
خبر کا کوڈ : 899774
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش