0
Friday 27 Nov 2020 12:12

اشتہاری مجرم کی تقریر روکنے کے حکم کیخلاف درخواست پر صحافی ڈٹ گئے

اشتہاری مجرم کی تقریر روکنے کے حکم کیخلاف درخواست پر صحافی ڈٹ گئے
اسلام ٹائمز۔ پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے تمام ٹی وی چیننلز کو اشتہاریوں اور مفرور مجرمان کے انٹرویوز اور تقاریر نشر نہ کرنے کے حکم کے خلاف دائر درخواست سے اپنے نام واپس لینے والے 6 میں 2 صحافیوں نے اب پٹیشن کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اکتوبر میں اپوزیشن کی کثیر الجماعتی کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی تقریر براہ راست نشر ہونے کے بعد پیمرا نے مذکورہ بالا ہدایات جاری کی تھیں۔ چنانچہ انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی پی) اور 16 صحافیوں، اینکر پرسنز اور میڈیا تجزیہ کاروں نے پیمرا کے حکم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

درخواست گزاروں میں آئی اے رحمٰن، محمد ضیاالدین، سلیم صافی، زاہد حسین، عاصمہ شیرازی، سید اعجاز حیدر، منیزے جہانگیر، غازی صلاح الدین، زبیدہ مصطفیٰ، نجم سیٹھی، نسیم زہرہ، امبر رحیم شمسی، غریدہ فاروقی، مہمل سرفراز اور منصور علی خان شامل ہیں۔ ان کے علاوہ پاکستان بار کونسل کے نائب صدر عابد ساقی اور ایچ آر سی پی کی سلیمہ ہاشی بھی درخواست گزاروں میں سے ایک ہیں۔ درخواست میں پیمرا کے یکم اکتوبر کے حکم اور 25 مئی 2019 کو دی گئی ہدایات کو چیلنج کیا گیا ہےجس میں مذکورہ بالا نشریات کے علاوہ پیمرا نے ذیلی عدالتی امور کے ممکنہ نتائج پر بحث کو نشر کرنے پر بھی پابندی لگادی تھی۔ ایک روز قبل ایڈووکیٹ غلام شبیر نے غریدہ فاروقی، مہمل سرفراز، زاہد حسین، نسیم زہرہ، عاصمہ شیرازی اور سلیم صافی کی جانب سے پٹیشن سے اپنا نام خارج کروانے کی6 درخواستیں دائر کی تھیں۔ تاہم وکیل نے عدالت کو بتایا کہ غریدہ فاروقی اور مہمل سرفراز پٹیشن واپس لینا نہیں چاہتی اور درخواست کی ان کی درخواست کو خارج سمجھا جائے۔ چنانچہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے غریدہ فاروقی اور مہمل سرفراز کی واپس لی گئی درخواست کو خارج کردیا۔

تاہم چیف جسٹس نے پٹیشن سے 4 صحافیوں، سلیم صافی، نسیم زہرہ، عاصمہ شیرازی، زاہد حسین کے نام خارج کردیے۔ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی کرنے والے ادارے کی جانب سے دیا گیا حکم غیر آئینی تھا اور معلومات کے پھیلاؤ کے سلسلے میں پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر غیر قانونی ممانعت لگائی۔ درخواست میں کہا گیا کہ ممانعت اپنے حق کے لحاظ سے آئینی طور پر غلط اور آئین کی دفعہ 19 اے کے تحت دیے گئے حقوق کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ درخواست کے مطابق یہ پٹیشنرز اور عمومی طور پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا حق ہے کہ کسی بھی شخص بشمول مجرم اور اشتہاری کا نقطہ نظر اور الفاظ ظاہر، شائع اور نشر کریں۔ پٹیشن میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا کسی مجرم اشتہاری آئین میں سیے گئے بنیادی حقوق سمیت اظہار رائے کے حق سے محروم ہوجاتا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 900242
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش