0
Wednesday 2 Dec 2020 21:42

جی بی کو صوبائی سیٹ اپ دینا حساس معاملہ ہے، وزیراعظم قومی اتفاق رائے پیدا کریں، امجد حسین ایڈووکیٹ

جی بی کو صوبائی سیٹ اپ دینا حساس معاملہ ہے، وزیراعظم قومی اتفاق رائے پیدا کریں، امجد حسین ایڈووکیٹ
اسلام ٹائمز۔ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر و اپوزیشن لیڈر جی بی اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان عبوری آئینی صوبہ وفاقی جماعتوں کے اتفاق رائے سے بنے گا۔ قومی اتفاق رائے کے لئے وفاقی حکومت کو اپوزیشن سمیت سب کے پاس جانا پڑے گا۔ نیشنل سکیورٹی کونسل نے جی بی کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کی توثیق کی ہے۔ عمران نیازی اگر مخلص ہیں تو اس فیصلے پر عملدرآمد کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں۔ جی بی کو عبوری صوبائی سیٹ اپ دینا نہایت حساس معاملہ ہے اور یہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے سے زیادہ مشکل مرحلہ ہے اور پاکستان مخالف قوتیں اس کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔ عمران نیازی بھی اس معاملے پر بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بننے سے باز رہیں اور قومی اتفاقِ رائے خراب نہ کریں۔ اگر عمران نیازی گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ مخلص ہیں تو سپریم کورٹ آف پاکستان میں عبوری آئینی صوبے کے خلاف درج نظرثانی کی اپیل واپس لیں اور وفاقی کابینہ نے جو کہ اس فیصلے کو مسترد کیا ہے، اس پر بھی نظرثانی کریں اور اپنے قول و فعل میں تضاد کو ختم کریں، تاکہ قومی اتفاق رائے قائم ہوسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران نیازی صرف ایمپائر کی انگلی پر ناچتا ہے اور ایمپائر نے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کے حوالے سے اپنا واضح فیصلہ پہلے ہی نیشنل سکیورٹی کونسل کو دے دیا ہے۔ اب عمران نیازی اس فیصلے پر عمل کریں، تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کی ستر سالہ بنیادی حقوق سے محرومی کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم ہوسکیں۔ عمران خان کو جی بی کے عوام کی خاطر بلاول بھٹو، شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان سمیت تمام قومی قیادت کے پاس جانا پڑے گا۔ نیشل سکیورٹی کونسل نے گلگت بلتستان کے عوام کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے، اب عمران نیازی کو چاہیئے کہ اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اقدامات کریں۔ اگر عمران نیازی یہاں کے عوام سے مخلص ہیں تو دیگر جماعتوں پر بے جا تنقید کرکے اس حساس معاملے کو خراب کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اگر وزیراعظم اس اہم معاملے پر خاموشی بھی اختیار کرے گا تو حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے پیدا ہوسکتی ہے۔

اپوزیشن لیڈر جی بی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے ذمہ داران عمران نیازی کو عبوری آئینی صوبے کے حوالے سے قومی اتفاق رائے خراب کرنے سے روکیں۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے تعاون اور ووٹ کے بغیر آئینی ترمیم ممکن نہیں ہے اور صرف حکومتی اتحاد گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ نہیں بنا سکتا۔ عمران نیازی چوری شدہ مینڈیٹ والی کابینہ کے اجلاس میں شرکت کرکے قوم کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ تحریک انصاف کو گلگت بلتستان کے عوام نے مسترد کر دیا ہے، سہولت کاروں کے سہارے جعلی حکومت قائم کرکے تمام اراکین کو وزارتیں دے کر اخراجات میں کمی کے دعووں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ عمران نیازی بجٹ میں اضافے کے حوالے سے کوئی منظوری دینے کے بجائے حسب سابق اپنا کرفیو زدہ دورہ کرکے واپس چلے گئے۔
خبر کا کوڈ : 901279
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش