0
Wednesday 2 Dec 2020 22:24

کشمیری عوام بھاجپا سے نالاں ہیں، شیخ مصطفٰی کمال

کشمیری عوام بھاجپا سے نالاں ہیں، شیخ مصطفٰی کمال
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے بی جے پی کے وزیر جتیندر سنگھ کی طرف سے اٹانومی اور سیلف رول کے ریمارکس کو جموں و کشمیر کے لوگوں کی پریشانیوں کا مذاق اُڑانے اور ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تینوں خطوں کی شناخت، پہچان، علاقائی سالمیت اور جمہوریت پر حکمران بھاجپا نے ڈاکہ زنی کی ہے اور تینوں خطوں کے عوام میں اس کے خلاف غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفٰی کمال نے کہا کہ بھارتی وزیر نے پریس کانفرنس جموں و کشمیر میں جمہوریت بحال کرنے کا دعویٰ کرکے اپنی جگ ہنسائی کروائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 اور 35 اے کو یکطرفہ، غیر آئینی اور غیر جمہوری طور پر منسوخ کرکے بھاجپا نے 5 اگست 2019ء کو ہی جموں و کشمیر میں جمہوریت کا جنازہ نکالا ہے، تب سے لیکر آج تک یہاں تاناشاہی پر مبنی راج قائم ہے۔ شیخ مصطفٰی کمال نے بھارتی وزیر کے دعوﺅں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے جان بوجھ کر ایک تاریخی ریاست، جس اپنا پرچم اور آئین تھا، کا درجہ کم کرکے مرکزی زیر انتظام علاقہ بنا ڈالا اور یہاں کے عوام کے حقوق سلب کئے۔

ڈاکٹر مصطفٰی کمال نے کہا کہ بھاجپا ہر سطح پر ناکام ہوگئی ہے اور جموں اور لداخ میں بھی بھاجپا کو منہ کی کھانی پڑ رہی ہے اور ہر طبقے، علاقے اور مذہب سے تعلق رکھنے والوں نے بھاجپا کے اقدامات کو مسترد کیا ہے اور آج بھی اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا اور اس کے لیڈران جملے بازی میں مشہور ہیں جبکہ زمینی سطح پر یہ عوام کو راحت پہنانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ کشمیر تو دور کی بات شری جتیندر سنگھ جی 2015ء کے بعد سے آج تک جموں اور لداخ میں ہوئی تعمیر و ترقی کا خلاصہ کرکے دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے حکومت میں آکر صرف مذہبی انتشار اور خلفشار پھیلایا جبکہ زمینی سطح پر کوئی بھی کارکردگی دکھانے میں ناکام ہے۔
خبر کا کوڈ : 901283
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش