0
Sunday 17 Jan 2021 00:29

عمران خان اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بہانے تلاش کر رہا ہے، مولانا عبدالواسع

عمران خان اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بہانے تلاش کر رہا ہے، مولانا عبدالواسع
اسلام ٹائمز۔ جے یو آئی کے صوبائی امیر، رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الواسع نے کہا ہے کہ عمران خان کی ناکام حکومت نے ملک کو معاشی اور سیاسی طور پر ناقابل تلافی نقصان پہنچا کر عوام کو دو وقت کی روٹی کا محتاج بنا دیا ہے۔ خارجہ پالیسی کی ناکامی کے باعث ہمارے ہمسایہ ممالک ہم سے ناراض ہیں، عمران خان اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بہانے تلاش کر رہا ہے لیکن ہماری موجودگی میں وہ یہ خیال دل سے نکال دیں۔ یہ بات انہوں نے لورالائی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے صدر و جمعیت کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان کے دورہ لورالائی، قلعہ سیف اللہ، خانوزئی اور کچلاک میں کامیاب جلسوں، خصوصی طور لورالائی میں قائد کے پرتپاک استقبال کرنے اور پی ڈی ایم کے تاریخی جلسہ عام کے انعقاد پر لورالائی سمیت پورے ژوب ڈویژن کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور پی ڈی ایم کے تمام رہنماؤں محمود خان اچکزئی، نیشنل پارٹی، بی این پی، پی پی پی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر کی شرکت پر بھی انکا مشکور ہوں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنی انا اور ضد چھوڑ کر ملک میں فوری عام الیکشن کا اعلان کر دیں، تاکہ عوام کو اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کرنے کا موقع ملے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ہر صورت جانا ہوگا، اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت جاری رہی تو ہم اپنی تحریک میں شدت لانے پر مجبور ہو جائینگے۔ قوم پر مسلط حکومت سے نجات دلا کر قوم کا مزید استحصال نہیں کرنے دینگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انیس جنوری کو اسلام آباد ریلی میں بلوچستان کے عوام بھی شریک ہونگے۔ ہم الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے خلاف بھرپور احتجاج کرینگے، کیونکہ اس کیس میں اسرائیل، بھارت اور امریکہ نے عمران خان کی مالی سپورٹ کی ہے، ہم اسے ضرور بے نقاب کرینگے۔ مولانا عبد الواسع نے کہا کہ الیکشن کمیشن فارن کیس میں فریق بننے کی بجائے غیر جانبدار رہتے ہوئے فوری کوئی فیصلہ کرے تو پی ڈی ایم کو تحریک چلانے کی ضرورت نہیں پڑیگی، کیونکہ عمران خان آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے زد میں آکر ازخود فارغ ہو جائینگے۔

انہوں نے کہا جے یو آئی نیب کو نہیں مانتی اور مولانا اس کے سامنے کبھی پیش نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء کے فراڈ الیکشن کو اسی وقت ہم نے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی زدہ، جعلی، فراڈ اور ناجائز الیکشن کی صورت میں اس حکومت کو غیر آئینی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم نے کہا تھا کہ اگر بھارت میں نریندر مودی الیکشن جیت گیا تو مسئلہ کشمیر کے حل میں بڑی مدد ملے گی، لیکن انکے آنے کے بعد کشمیر کو انہوں نے باقاعدہ اپنا حصہ قرار دیکر آئینی طور پر اسے بھارت میں ضم کر دیا۔ آج وزیراعظم کو جواب دینا چاہیئے کہ آپکی مودی سے کیا ڈیل ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو الگ صوبہ بنانے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن فاٹا کے ایک کروڑ سے زائد پشتون عوام کو کیوں صوبہ بنانے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں کوئی اختلافات پیدا کرنے کی جرات نہیں کرسکتا، ہم متحد اور ایک پیج پر ہیں۔
خبر کا کوڈ : 910634
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش