0
Thursday 21 Jan 2021 21:11

چین نے اروناچل کو پھر اپنا حصہ بتایا

چین نے اروناچل کو پھر اپنا حصہ بتایا
اسلام ٹائمز۔ چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ چین کی اپنے ہی خطے میں ترقیاتی اور تعمیراتی سرگرمیاں معمول اور الزام تراشی سے بالاتر ہے۔ وزارت نے اروناچل پردیش میں چین کے ایک نیا گاؤں بسانے کی خبروں کے جواب میں یہ بات کہی۔ میڈیا بریفنگ میں چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چنئینگ نے ایک سوال کے جواب میں کہا، جنگ نان خطے (جنوبی تبت) پر چین کا موقف واضح اور مستحکم ہے۔ ہم نے کبھی بھی نام نہاد اروناچل پردیش کو تسلیم نہیں کیا۔ چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ بتاتا ہے، جبکہ ہندوستان ہمیشہ ہی یہ کہتا رہا ہے کہ اروناچل اس کا لازمی اور اٹوٹ حصہ ہے۔ چنینگ نے کہا کہ ہمارے خود کے علاقے میں چین کی ترقیاتی اور مینوفیکچرنگ سرگرمیاں عام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزام تراشی سے بالاتر ہے کیوں کہ یہ ہمارا علاقہ ہے۔ این ڈی ٹی وی نے ایک رپورٹ میں اروناچل پردیش میں اس علاقے کی تصاویردکھائی تھیں، جس میں کہا گیا ہے کہ چین نے نیا گاؤں بنایا ہے اور اس میں قریب 101 مکانات ہیں۔

چینل کے مطابق 26 اگست 2019ء کی پہلی تصویر میں انسانی رہائش نہیں دکھائی گئی لیکن دوسری تصویر نومبر 2020ء میں رہائشی تعمیرات دکھائی گئیں۔ ہندوستان نے پیر کو اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک اپنی سلامتی کو متاثر کرنے والی تمام سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے اور اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کرتا ہے۔ نئی دہلی میں وزارت برائے امور خارجہ نے کہا کہ ہندوستان نے سرحدی علاقوں میں اپنے شہریوں کی روزی روٹی کو بہتر بنانے کے لئے سڑکوں اور پلوں سمیت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں تیزی لا دی ہے۔ ایسے وقت میں اروناچل پردیش میں ایک نیا چینی گاؤں بسانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جب آٹھ ماہ سے زیادہ عرصے سے مشرقی لداخ میں ہندوستان اور چین کے مابین فوجی تعطل رہا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین کئی دور کی فوجی اور سفارتی بات چیت کے باوجود تاحال تعطل حل نہیں ہوسکا ہے۔
خبر کا کوڈ : 911574
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش