0
Saturday 23 Jan 2021 07:25

امریکہ اور چین کے درمیان ثالثی کیلئے تیار ہیں، شاہ محمود قریشی

امریکہ اور چین کے درمیان ثالثی کیلئے تیار ہیں، شاہ محمود قریشی
اسلام ٹائمز۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا کے نئے صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ افغان امن عمل کو برقرار رکھا جائے جس پر امریکا اور طالبان نے گزشتہ برس دوحہ میں دستخط کیے۔ الجزیرہ کو دیے گئےانٹرویو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جوبائیڈن کو ادراک ہونا چاہیے کہ افغانستان میں یہ ایک موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کو آگے بڑھائیں کیونکہ طویل عرصے بعد ہم درست سمت کی طرف گامزن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تشویش ہے کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ کشیدگی سے ماحول خراب ہوسکتا ہے جبکہ پاکستان نے بہت کچھ کیا ہے اور ہم امن عمل کے لیے ساز گار ماحول بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے اندر امن عمل کو خراب کرنے والے لوگ موجود ہیں جنہیں جنگی حالات سے مالی فائدہ پہنچا ہے اور وہ لوگ نہیں چاہتے ہیں کہ امن عمل کامیاب ہو۔ انہوں نے کہا کہ پرامن، مستحکم اور خوش حال افغانستان کے ہمارے نکتہ نظر سے اتفاق نہیں کرنے والے بیرونی عناصر سے بھی خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ افغان امن عمل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ افغانستان کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن عمل کی کامیابی کو یقینی بنائے، یہ ان کا ملک ہے اور ان کا مستقبل ہے۔


شاہ محمود قریشی نے انٹرویو میں کہا کہ جوبائیڈن انتظامیہ کو، جو میں محسوس کر رہا ہوں، اس کی حمایت کرنی چاہیے جو مشترکہ مفاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی انتظامیہ کے ساتھ ہمارا رویہ، سوچ، مقاصد اور مشترکہ وژن بڑی حد تک یکسو ہے اور اس پر مزید اعتماد بڑھایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا کو یہاں آکر مسابقت اور سرمایہ کاری کرنی چاہیے اور پاکستان چاہتا ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان ضرورت پڑے تو ثالثی کی جائے۔ وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس روایتی موقع ہے اور دونوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرچکا ہے، اس ماحول میں جہاں تبدیلی آرہی ہے وہاں پاکستان پل بن سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 911808
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش