0
Saturday 23 Jan 2021 11:52

استور اور دیامر کے اہم علاقوں کو نیشنل پارک قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری

استور اور دیامر کے اہم علاقوں کو نیشنل پارک قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری
اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان حکومت نے استور اور دیامر کے اہم سیاحتی مقامات کو نیشنل پارک قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع استور میں 1989 مربع کلومیٹر علاقے کو ''ہمالیہ نیشنل پارک'' قرار دیا گیا ہے جس میں میرملک، چھوٹا دیوسائی، منی مرگ، کالا پانی اور قمری کے علاقے شامل ہونگے۔ ادھر دیامر اور استور ریجن میں 1196 مربع کلومیٹر کے علاقے کو ''نانگا پربت نیشنل پارک'' قرار دیا گیا ہے جس میں استور دشکن، مشکن، ہرچو ویلی، راما ویلی، عیدگار کے علاقے شامل ہونگے جبکہ دیامر کے گاہ ویلی، بونرنالہ،ٹٹو گاہ،بدیر گاہ، فیری میڈو کے علاقے نیشنل پارک شمار ہونگے۔

 عوام کا ردعمل
صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ اہم علاقوں کو نیشنل پارک قرار دینے کا مقصد ان علاقوں میں سیاحت کا فروغ اور قدرتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے جنگلات و جنگلی حیات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ تاہم جی بی کے سیاسی و سماجی حلقے حکومت کے اس موقف کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت نیشنل پارک کی آڑ میں عوام کو اپنی زمینوں سے بھی محروم کرنے اور معدنیات پر قبضہ کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ اہم علاقوں کو نیشنل پارک قرار دینے کے بعد ان علاقوں میں فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ اپنا قانون نافذ کریگا جس کے تحت ان علاقوں میں کاشتکاری، گھاس چرائی اور سوختنی لکڑی کی نقل و حمل پر پابندی ہوگی۔ گلگت بلتستان پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں قابل کاشت زمینیں پہلے سے ہی کم ہیں اور بچے کچھے علاقوں کو نیشنل پارک کے نام پر حکومت قابض ہو گئی تو عوام بے گھر ہو جائیں گے۔

پابندیاں
اپوزیشن لیڈر جی بی اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ نے مذکورہ نوٹیفکیشن کے بعد اپنے ردعمل میں نیشنل پارک قرار دینے کے بعد عوام پر عائد ہونے والی پابندیوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ امجد ایڈووکیٹ کے مطابق کسی بھی علاقے کو نیشنل پارک بنانے کی صورت میں درج ذیل پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔
)۔ نیشنل پارک قرار دینے والے علاقوں میں مکانات بنا کر آباد نہیں ہو سکتے۔
 مال مویشی اور غلہ بانی پر بھی پابندی ہو گی۔
)۔ گھروں میں جلانے کی لکڑی لانے اور جنگلات کی شاخ تراشی پر پابندی ہوگی۔
)۔ جڑی بوٹیوں کو استعمال میں لانے پر پابندی ہوگی۔
۔) زراعت اور کاشت کاری پر پابندی ہوگی۔
ان کے علاوہ اور بہت سی پابندیاں شامل ہوں گی۔

اپوزیشن لیڈر کا ردعمل
نیشنل پارک کے قیام کے بعد اپنے ایک ردعمل میں اپوزیشن لیڈر امجد حسین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے 28 ہزار مربع میل رقبے میں صرف دو فیصد رقبہ زیر کاشت ہے۔ حکومت کی جانب سے اہم علاقوں کو نیشنل پارک قرار دینے سے عوام بچی کچھی زمینوں سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ تحریک انصاف کی کٹ پتلی حکومت کا پہلا وار ہے جو جی بی کے عوام پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارک قرار دینے کے بعد ان تمام علاقوں میں فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ جی بی اپنی مرضی کے قوانین نافذ کریگا۔ کالے قانون کی وجہ سے عوام اپنی بنجر زمینوں سے زیر کاشت لانے اور مفاد حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور یوں غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ بنجر زمینوں کو خالصہ سرکار کے نام پر عوام سے محروم کیا جا رہا ہے۔ چراگاہوں کو نیشنل پارک کے نام پر عوام سے محروم کیا جا رہا ہے، معدنیات اور قیمتی پتھروں کو ریاست اور حکومت کی ملکیت قرار دے کر عوام کو مفاد حاصل کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی بی کے وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے قوانین راتوں رات نافذ ہوتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان کے عوام کیلئے سہولیات فراہم کرنے والے قوانین کے نٖفاذ کیلئے صدیاں درکار ہوتی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 911856
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش