0
Sunday 24 Jan 2021 23:47

امریکہ و یورپ سے ہمارا اعتماد مکمل طور پر اُٹھ چکا ہے، مزید کوئی مذاکرات نہیں کرینگے، سید عباس عراقچی

امریکہ و یورپ سے ہمارا اعتماد مکمل طور پر اُٹھ چکا ہے، مزید کوئی مذاکرات نہیں کرینگے، سید عباس عراقچی
اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ڈپٹی برائے سیاسی امور سید عباس عراقچی نے اٹلی کے اخبار لاریپبلیکا (la Repubblica) کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ امریکہ میں وقوع پذیر ہونے والے حالیہ واقعات نے امریکی جمہوریت کا اصلی چہرہ عیاں کر کے رکھ دیا ہے۔ اس سوال کے جواب پر کہ آپ ٹرمپ انتظامیہ سے بائیڈن انتظامیہ کو اقتدار کی منتقلی کو کیسے دیکھتے ہیں؟ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ہم ان دونوں حکومتوں کے درمیان اقتدار کی منتقلی کے بارے کوئی خاص موقف نہیں رکھتے اور صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ دیکھیں امریکہ کے جدید صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کی غلطیوں کی اصلاح کیسے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس پر حملے کے مناظر دیکھنے سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا یہ امریکہ ہے جو دنیا بھر کو قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کا سبق سکھانا چاہتا ہے؟ کیونکہ واشنگٹن میں وقوع پذیر ہونے والے حادثات نے امریکی جمہوریت کا اصلی چہرہ عیاں کر کے رکھ دیا ہے اور اب واضح ہو چکا ہے کہ دنیا میں کسی کو یہ کہنے کا امریکیوں کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے گھر میں جمہوریت سے متعلق مسائل کو کیسے سلجھائیں۔

امریکی جمہوریت کے اصلی چہرے کے بارے ایرانی نکتۂ نظر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ایرانی وزارت خارجہ کے سیکرٹری سیاسی امور نے تاکید کی کہ ہمارے نزدیک امریکہ شروع سے ہی ایک تسلط پسند طاقت تھا جو دنیا بھر پر اپنی خواہش کو مسلط کر دینا چاہتا ہے جبکہ اب یہی تسلط پسند رویہ (Hegemonic Approach) امریکہ کی اندرونی سیاست میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ دنیا پر اپنی خواہشات کو مسلط کرنے کے لئے امریکہ نے ہمیشہ طاقت کی زبان استعمال کی ہے جبکہ اس مرتبہ پرتشدد زبان پر مبنی یہی کردار پورے کے پورے امریکہ میں استعمال کیا جا رہا ہے جس کی واضح مثال ڈرانا دھمکانا، قوانین کی پابندی اور انتخابات کے نتائج قبول نہ کرنے کی عام دعوت ہے اور یہی امریکہ کا حقیقی چہرہ ہے جو آجکل ہم دیکھ رہے ہیں۔

سید عباس عراقچی نے ایرانی جوہری معاہدے کے بارے اس سوال کے جواب میں کہ جرمنی و فرانس چاہتے ہیں کہ طاقتور ایرانی میزائلوں جیسے نئے موضوعات بھی ایرانی جوہری معاہدے کے نئے مذاکرات میں شامل کر لئے جانے چاہئیں، لہذا اس حوالے سے آپ کا کیا جواب ہے؟ کہا کہ ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) پر مکمل طور پر عملدرآمد کیا جانا چاہئے جبکہ اس حوالے سے کوئی نیا جوہری یا کوئی اور معاہدہ (JPCOA Plus) ہرگز وجود میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل ملکی دفاع کا انتہائی قابل اعتماد ذریعہ ہیں اور اس حوالے سے ہم کوئی مذاکرات نہیں کریں گے جبکہ دوسرے موضوعات بارے گفتگو کا دارومدار بھی اسی بات پر ہے کہ جوہری معاہدے (JCPOA) پر کیسا عملدرآمد کیا جاتا ہے تاہم خیلج فارس کی سکیورٹی کے بارے یہ کہ یہ ایک ایسا موضوع ہے جسے بغیر کسی بیرونی مداخلت کے، خطے کے اپنے ممالک کے درمیان گفتگو کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ڈپٹی برائے سیاسی امور نے تاکید کی کہ امریکہ و یورپ سے ایران کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے کیونکہ ہم نے حسن نیت کے ساتھ مذاکرات انجام دیئے اور ان پر عملدرآمد کیا لیکن امریکہ و یورپ نے اپنے عہدوپیمان پر کبھی عمل نہیں کیا۔
خبر کا کوڈ : 912156
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش