?>?> سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمہ دار دونوں بھائی عبرتناک انجام کو پہنچ چکے ہیں، طاہرالقادری - اسلام ٹائمز
0
Thursday 17 Jun 2021 20:37
مظلومین سات برسوں سے انصاف کی راہ دیکھ رہے ہیں

سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمہ دار دونوں بھائی عبرتناک انجام کو پہنچ چکے ہیں، طاہرالقادری

نواز شریف ممکن ہے کبھی وطن واپس ہی نہ آسکے، شہباز شریف ضمانت پر زندہ ہے
سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمہ دار دونوں بھائی عبرتناک انجام کو پہنچ چکے ہیں، طاہرالقادری
اسلام ٹائمز۔ قائد تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے شہدائے ماڈل ٹاؤن کی 7ویں برسی کے موقع پر لاہور سمیت مختلف شہروں میں شہداء کے انصاف کے لئے نکالی جانیوالی ریلیوں سے آڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قاتلوں کی حکومت میں انصاف نہ ملنے کی سمجھ تو آتی تھی مگر تحریک انصاف کی حکومت میں مظلوموں پر انصاف کے دروازے بند کیوں ہیں۔؟ وزیراعظم عمران خان میرے ساتھ مل کر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کیلئے پریس کانفرنسیں کرتے رہے ہیں اور احتجاجوں میں شریک رہے ہیں۔ آج مظلوم انصاف کیلئے دربدر اور دھکے کھا رہے ہیں۔ قتل کرنیوالوں کو سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیئے تھا مگر وہ آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔ انہوں ںے کہا کہ کارکنوں کیخلاف سابق دور حکومت میں درج ہونیوالی جھوٹی ایف آئی آرز آج بھی قائم ہیں۔ یہ ظلم آج کیوں ہو رہا ہے۔؟

ڈاکٹر طاہرالقادری نے لاہور پریس کلب ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کے لئے بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف اپنے عبرتناک انجام کو جا پہنچے ہیں۔ میاں نواز شریف کو شاید عمر بھر پلٹ کر اپنے وطن میں قدم رکھنا نصیب نہ ہو اور دوسرے بھائی ملزم کے طور پر ضمانت کی رہائی کیساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اسے کہتے ہیں اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ اللہ کے فیصلوں میں انسان کی نظر میں دیر تو ہوسکتی ہے مگر اندھیر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی ناانصافی کرے گا، اللہ کے غضب کا نشانہ بنے گا چونکہ اللہ عدل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے یتیم بچوں، ان کے بیٹوں، بیٹیوں، بیوگان اور ورثاء کا وزیراعظم عمران خان سے سوال ہے کہ پہلے تو قاتلوں کی حکومت تھی، آج تو انصاف والوں کی حکومت ہے، آج مظلوم انصاف سے محروم کیوں ہیں۔؟

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سابق حکمرانوں نے تو مذموم مقاصد کیلئے کارکنوں کیخلاف جھوٹی ایف آئی آرز درج کی تھیں، آپ کے دور حکومت میں یہ ایف آئی آرز ختم کیوں نہیں ہوئیں؟ اگر آپ چاہیں تو ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ایف آئی آرز ختم ہوسکتی ہیں مگر آپ نے کس لئے یہ ایف آئی آرز سنبھال رکھی ہیں۔؟ شہدائے ماڈل ٹاؤن سے اظہار یکجہتی کیلئے عوامی تحریک لاہور اور تحریک منہاج القرآن لاہور کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت خرم نواز گنڈاپور، جواد حامد، سلطان محمود چودھری، حافظ غلام فرید، اشتیاق حنیف مغل، حاجی فرخ خان قادری، علامہ امداد حسین شاہ، علامہ محمد خلیل حنفی، علی قریشی، نورین علوی، فہنیقہ ندیم، اصغر ساجد، انجینئر ثناء اللہ، حاجی محمد امجد قادری، میاں ممتاز حسین، چودھری اقبال، حفیظ اللہ جاوید نے کی۔

ریلی میں شریک ہزاروں خواتین، مردو حضرات اور بچوں نے شہدائے ماڈل ٹاؤن کے انصاف کیلئے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ ریلی کے شرکاء نے انصاف کی فراہمی کے لئے جے آئی ٹی کی بحالی اور حکومت سے جھوٹے مقدمات کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ خرم نواز گنڈاپور نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 7 سال گزر جانے کے بعد بھی انصاف نہیں ملا۔ آخر انصاف کے راستے میں کون رکاوٹ ہے۔؟ سپریم کورٹ کی طرف سے ماتحت عدالتوں کو کیسز نمٹانے کی جو ہدایات بھی ملتی ہیں، ان پر عمل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ظلم 17 جون 2014ء کے دن ہوا تھا اور ایک ظلم آج ناانصافی کی صورت میں ہو رہا ہے۔

دریں اثناء پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام شہدائے ماڈل ٹاؤن کی 7ویں برسی کے موقع پر 17 جون کو لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، ملتان، حیدر آباد، جیکب آباد، کوہاٹ، لکی مروت، مظفر آباد، میرپور، ایبٹ آباد، گجرات، منڈی بہاؤ الدین، حافظ آباد، گوجرانوالہ، نارروال، سیالکوٹ، مریدکے، سمندری، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، چنیوٹ، ساہیوال، پاکپتن، اوکاڑہ، لودھراں، وہاڑی، خانیوال، میاں چنوں، رحیم یار خان، بہاولنگر، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ، لیہ، سرگودھا، اٹک، جہلم، چکوال، خوشاب، میانوالی، بھکر، سوہاوہ، پنڈدادنخان، دینہ، لاڑکانہ، گھوٹکی، ڈھرکی، نوشہرو فیروز، مورو، شہداد پور، ٹنڈوآدم، کھپرو، گھمبٹ، ڈوکری، ڈیرہ اسماعیل خان، دیر، کوٹلی، بھبمر، سدھنوئی سمیت تحصیل اور ٹاؤن کی سطح پر ریلیاں نکالی گئیں اور شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء سے اظہار یکجہتی کرنے کیساتھ ساتھ انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔
خبر کا کوڈ : 938475
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش