0
Monday 21 Jun 2021 21:34

یکساں قومی نصاب قرآن و سنت، آئین پاکستان اور قومی وحدت کی روح کے منافی ہے، وفاق المدارس الشیعہ

یکساں قومی نصاب قرآن و سنت، آئین پاکستان اور قومی وحدت کی روح کے منافی ہے، وفاق المدارس الشیعہ
اسلام ٹائمز۔ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے یکساں قومی نصاب کے نام پر تیار کردہ سلیبس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے قرآن و سنت، آئین پاکستان اور قومی وحدت کی روح کے منافی قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی نصاب میں مشترکات پر توجہ دی جائے، نفرت اور اختلاف پیدا کرنے والے امور کو شامل نہ کیا جائے۔ درود میں تبدیلی پر اجلاس میں تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ نئے متعارف کروائے گئے درود میں شامل عبارت کی تائید قرآن و سنت سے نہیں ہوتی، اسے درست کیا جائے۔ جامعۃ المنتظر میں رئیس الوفاق آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کی زیر صدارت منعقد ہونیوالے اجلاس میں وقف املاک ایکٹ کو شریعت کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت کی طرف سے متنازع قانون پر نظرثانی کا اقدام لائق تحسین قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ حکومت نے اتحاد تنظیمات مدارس کے مطالبے پر کمیٹی تشکیل دی، جو کام کر رہی ہے، اس حوالے سے پیشرفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ سفارشات کے مطابق قومی اسمبلی سے ایکٹ میں ترمیم ہوںگی اور اس وقت تک متنازع قانون پر عمل درآمد نہیں ہوگا۔ وفاق المدارس الشیعہ کے علماء مذکورہ کمیٹی میں شامل کیے جائیں۔ میڈیا بریفنگ میں علامہ محمد افضل حیدری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نصاب سے اہل بیت اطہارؑ اور امہات المومنین رضی اللہ عنہم کا تذکرہ ختم کر دیا گیا ہے یا اجمالی طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ جنگ خندق، خیبر اور دیگر غزوات میں حضرت علی علیہ السلام کے کردار کا ذکر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اسلام کی دعوت و تبلیغ کے پہلے جلسے میں حضرت ابو طالب علیہ السلام کا ذکر ختم کر دیا گیا ہے، جو اس جلسے کے میزبان تھے۔ اسی طرح حضرت امام حسنؑ اور امام حسین علیہ السلام کا نصاب میں ذکر ہی نہیں کیا گیا، جو کہ ناقابل برداشت ہے۔

علامہ محمد افضل حیدری نے توقع کا اظہار کیا کہ حکومت نصاب پر تحفظات کو دور کرکے نظرثانی کرے گی اور اس یکساں نصاب کو قابل قبول بنائے گی، تاکہ یکساں نصاب تعلیم تعصبات سے پاک ہو۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے حکومت کے ساتھ رجسٹریشن فارم پر اتفاق رائے ہوچکا تھا اور روڈ میپ کی تیاری کیلئے ایک کمیٹی بھی بن چکی تھی مگر غیر مرئی قوت نے اس پر عملدرآمد رکوا دیا۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ اتحاد تنظیمات مدارس کا فی الفور اجلاس بلوا کر مسئلے کو حل کیا جائے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے امور میں وفاق المدارس الشیعہ، اتحاد تنظیمات مدارس کے فیصلوں کی پابندی کرے گا۔ حکومت تعطل ختم کرتے ہوئے مدارس کی حقیقی نمائندہ تنظیموں کو اعتماد میں لے کر معاملات طے کرے۔

اتحاد تنظیمات رجسٹریشن سمیت حکومت سے کئے تمام معاہدوں کی پاسداری کرے گی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ مدارس کے بینک اکاونٹ بند کرنا افسوسناک ہے۔ ایسے اقدامات سے حکومت اور مدارس میں دوریاں پیدا ہوں گی، جس سے حکومت کی عوامی حمایت پر بھی اثر پڑے گا۔ عوام دینی مدارس کیخلاف حکومتی اقدامات کو ناپسند کرتے ہیں۔ سرحدی خطرات اور آئے دن پاک فوج کے جوانوں کی شہادت قومی وحدت کا تقاضا کرتی ہیں، جو مدارس کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیر تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام کو متعدد شیعہ اداروں، تنظیموں کی طرف سے متنازعہ نصاب کی خامیوں کی نشان دہی کے ساتھ بہتری کی تجاویز بھیج دی گئی ہیں۔ کسی عوامی ردعمل سے پہلے حکومت فوری طور پر نصاب کی اصلاح کرے۔ وفاق المدارس الشیعہ کے نمائندوں نے مثبت تجاویز دی ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ افتخار حسین نقوی نے فقہ جعفریہ کے مطابق طلاق اور میراث کے مسائل پر قانون سازی کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔

اجلاس میں بھارت سے وسیم رضوی نامی ملعون شخص کی طرف سے قرآن مجید کی توہین اور لاہور کے مولوی کی وائرل ویڈیو کی مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی طبقے کی بدنامی قرار دیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ملزم کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اجلاس میں مرحوم علماء کرام کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ وفاق المدارس الشیعہ کی کابینہ کے اجلاس میں علامہ شیخ محمد شفا نجفی، مولانا سید افتخار حسین نقوی، مولانا سید مرید حسین نقوی، مولانا ڈاکٹر سید محمد نجفی، مولانا انیس الحسنین خان، مولانا فیاض حسین نقوی، مولانا شبیر حسن میثمی، مولانا مشتاق حسین مشھدی، مولانا عبد المجید بہشتی، مولانا محمد رمضان توقیر، مولانا محمد تحسین، مولانا اعجاز حسین شاکری اور مولانا سید شاہد حسین نقوی نے شرکت کی۔
خبر کا کوڈ : 939300
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش