0
Thursday 24 Jun 2021 00:36

بھارت 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات پر دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں کی رائے لینے کیلئے “آزادانہ ریفرنڈم” کرائے، شاہ محمود قریشی

بھارت 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات پر دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں کی رائے لینے کیلئے “آزادانہ ریفرنڈم” کرائے، شاہ محمود قریشی
اسلام ٹائمز۔ وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھارتی سرکار کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں اٹھائے گئے 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدامات پر دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں کی رائے لینے کیلئے “آزادانہ ریفرنڈم” منعقد کرائے۔ افغانستان کی داخلی صورت حال تشویشناک ہے، وہاں کوئی ربط اور اتحاد دکھائی نہیں دیتا، ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا نکتہ نظر سن کر میری پریشانی میں اضافہ ہوا۔ وزیرخارجہ نے بھارتی سرکار کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019ء کے اقدامات کے حوالے سے ریفرنڈم کا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ریفرنڈم کے نتیجے میں اگر دنیا بھر کے کشمیری ان یکطرفہ اقدامات کو مسترد کر دیں تو ہندوستان کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنا ہوگی، ہندوستان کا خیال تھا کہ 5 اگست کے اقدامات سے انہیں پذیرائی ملے گی جبکہ نتائج اس کے برعکس برآمد ہوئے، تمام کشمیری ان اقدامات کے خلاف متحد ہو گئے۔ وہ کشمیری جو گذشتہ ادوار میں بھارت سرکار کے ساتھ اقتدار میں شریک رہے انہوں نے بھی ان اقدامات کو مسترد کردیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 24 جون کو ہندوستان کی جانب سے کانفرنس بلانے کا اعلان اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ “سب اچھا نہیں ہے”۔

افغانستان کے حوالے سے وزیرخارجہ نے کہا کہ اس وقت افغانستان کی صورتحال تشویشناک ہے، ایک ہمسایہ ہونے کے ناطے ہماری خواہش ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہو، کہا جا رہا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے اپنے آرمی چیف، وزیردفاع اور وزیرداخلہ کو تبدیل کیا ہے، ان حالات میں یہ تبدیلیاں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ وہ خود حالات سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میری ترکی میں افغان اعلیٰ سطحی مفاہمتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقات ہوئی ان کا نکتہ نظر سن کر میری پریشانی میں اضافہ ہوا۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان کی داخلی صورت حال تشویشناک ہے، وہاں کوئی ربط اور اتحاد دکھائی نہیں دیتا، مذاکرات کیسے کرنے ہیں اس پر بھی اتفاق نہیں۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کے 60 فیصد انخلاء کے بعد بھی اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار رہتے ہیں تو یہ امر تشویش کا باعث ہے۔
خبر کا کوڈ : 939732
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش