0
Tuesday 30 Nov 2021 00:25

سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟ اپیلیٹ کورٹ نے وفاق سے جواب طلب کر لیا

سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟ اپیلیٹ کورٹ نے وفاق سے جواب طلب کر لیا
اسلام ٹائمز۔ سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت نے وفاق کو سترہ جنوری دو ہزار انیس کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے ساتھ منسلک آرڈر 2019ء کے ایک حصے میں سپریم اپیلیٹ کورٹ کے چیف جج اور ججز کی تنخواہ، مراعات، عمر کی بالائی حد اور پنشن سے متعلق فیصلے پر فوری عملدرآمد کرنے کا حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سترہ جنوری کے فیصلے پر اب تک عملدرآمد نہ ہونے کی وجوہات بھی بیان کرنے کا حکم دیا ہے۔ گلگت کے مقامی وکیل شوکت علی ایڈووکیٹ نے سپریم اپیلیٹ کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے سترہ جنوری دوہزار انیس کے فیصلے سے منسلک آرڈر 2019ء میں موجود ایک حصے جس میں سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جج اور ججز کی تنخواہ، مراعات، عمر کی بالائی حد اور پنشن سے متعلق حکم دیا گیا تھا جس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا، لہٰذا اس پر عملدرآمد کرایا جائے جو کہ آزاد عدلیہ کیلئے ازحد ضروری ہے۔

سپریم اپیلیٹ کورٹ کے چیف جج سید ارشد حسین شاہ اور جسٹس وزیر شکیل پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے درخواست کی سماعت کی اور فیصلہ دیتے ہوئے وفاق کو حکم دیا کہ سپریم کورٹ کے سترہ جنوری کے فیصلے سے منسلک آرڈر جس میں چیف جج سپریم اپیلیٹ کورٹ اور دیگر ججز کی تنخواہ، مراعات، پنشن اور عمر کی بالائی حد مقرر کی گئی تھی پر عملدرآمد کر کے دو ہفتے میں رپورٹ جمع کرائیں۔ اسی درخواست کی سماعت کے دوران دیگر وکلاء کے مطالبے پر عدالت نے سپریم کورٹ کے 17 جنوری دو ہزار انیس کے فیصلے پر ابھی تک عملدرآمد نہ ہونے کی وجوہات سے متعلق رپورٹ دو ہفتے میں رجسٹرار سپریم اپیلیٹ کورٹ کے پاس جمع کرانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ کیس کی آئندہ سماعت 14 دسمبر کو ہو گی۔ فیصلے کی کاپی تمام فریقین اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو بھی بجھوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 966090
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش