0
Monday 17 Jan 2022 20:04
امداد حسین، سجاد حسین اور مختیار حسین پر فائرنگ

ڈی آئی خان، شیعہ کلنگ کا سلسلہ تھم نہ سکا، مزید 3 افراد شہید

تحصیل پروآ کے علاقے بھٹیسر میں چار دہشتگردوں نے فائرنگ کی
ڈی آئی خان، شیعہ کلنگ کا سلسلہ تھم نہ سکا، مزید 3 افراد شہید
اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں اہل تشیع کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ پروآ کے علاقے بھٹیسر میں کالعدم سپاہ تنظیم کے دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے مزید تین اہل تشیع نوجوانوں کو قتل کر دیا ہے۔ مقتولین میں دو آپس میں سگے بھائی جبکہ ایک چچازاد بھائی تھا۔ تفصیلات کے مطابق ڈی آئی خان کی تحصیل پروآ کے علاقے بھٹیسر میں امداد حسین اور سجاد حسین اپنے کزن مختیار حسین کے ساتھ اپنی دکان پر موجود تھے کہ اچانک دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار دہشت گردوں نے دکان میں داخل ہوکر فائرنگ کر دی۔ متعدد گولیاں لگنے سے تینوں اہل تشیع نوجوان موقع پہ ہی جاں بحق ہوگئے۔ حملہ آور ارتکاب جرم کے بعد اطمینان کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مقامی اہل تشیع کمیونٹی کے مطابق دہشتگردوں کا تعلق کالعدم جماعت سے تھا اور مقتولین کو محض شیعہ ہونے کی پاداش میں ٹارگٹ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں طویل عرصہ سے اہل تشیع افراد پر دائرہ حیات تنگ کیا گیا ہے اور اب تک سینکڑوں افراد کو ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں قتل کیا جا چکا ہے۔ مقامی ایس ایچ او ملک جاوید کے مطابق موٹر سائیکلوں پر سوار چار نامعلوم افراد فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مقتولین دکاندار تھے، گاؤں بھٹیسر کے رہائشی تھے۔ مقتولین کے جسد خاکی کو پہلے ہسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں لواحقین کے سپرد کیا گیا۔ علاقہ مکینوں نے عرصہ دراز سے جاری ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انڈس ہائی وے پر دھرنا دے دیا اور سڑک پہ لاشیں رکھ کر قاتلوں کی سرکوبی کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی دھرنے کے باعث انڈس ہائی وے پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی۔ اس دوران ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اور پولیس کے دیگر اعلٰی افسران موقع پہ پہنچ گئے اور مظاہرین سے مذاکرات کئے۔

ایف آئی آر کے معاملے پہ قتل ہونے والے افراد کے ورثاء کا موقف تھا کہ پہلے ہی ایسی سینکڑوں ایف آئی آرز کاغذوں کے ڈھیروں میں دب چکی ہیں اور سینکڑوں افراد قتل ہونے کے باوجود آج تک کسی قاتل، دہشت گرد کو سزا نہیں دی گئی ہے۔ لہذا ایف آئی آر اس مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے مذاکرات کرنے والے افسران جن میں ایس پی انویسٹی گیشن اسلم خٹک، ڈی ایس پی ہیڈ کواٹر اصغر علی شاہ، ایڈیشنل ایس پی جاوید خان، ڈی ایس پی پروا کاشف ستار، انسپکٹر صابر حسین بلوچ نے قاتلوں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ مقتولین کی جانب سے مذاکرات کرنے والے افراد میں تحصیل ناظم فخراللہ میانخیل، چیئرمین تنویر مہدی ایڈووکیٹ، حاجی شیر عالم بلوچ، سجاول خان پتافی شامل تھے۔ ان مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔ دہشت گردی کا شکار ہونے والے مقتول امداد حسین، سجاد حسین اور مختیار حسین کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں بھٹیسر، چوک شیر عالم پر آٹھ بجے ادا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر پولیس اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے سخت سکیورٹی اقدامات کئے جا رہے ہیں، کیونکہ نماز جنازہ میں سیاسی شخصیات کی آمد متوقع ہے۔
خبر کا کوڈ : 974112
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش