0
Sunday 18 Sep 2011 09:28

خطے کی اقوام نیٹو، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اٹلی کی مجرم حکومتوں پر ہرگز اعتماد نہ کریں، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

خطے کی اقوام نیٹو، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اٹلی کی مجرم حکومتوں پر ہرگز اعتماد نہ کریں، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز- فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تہران میں پہلی بین الاقوامی اسلامی بیداری کانفرنس کی افتتاحیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کی مسلمان انقلابی اقوام کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہرگز امریکہ، نیٹو، برطانیہ، فرانس اور اٹلی جیسی مجرم حکومتوں پر اعتماد نہ کریں، ہمیشہ انکے بارے میں بدگمان رہیں اور انکی مسکراہٹوں اور وعدوں پر یقین نہ کریں کیونکہ یہ بظاہر تو مسکراتے نظر آتے ہیں لیکن پس پردہ سازشوں اور خیانتوں میں مصروف ہیں۔
خطے میں رونما ہونے والی تحریکیں حقیقی معنوں میں عوامی اور اسلامی ہیں:
ولی امر مسلمین جہان آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاکید کی کہ خطے میں رونما ہونے والی انقلابی تحریکیں حقیقی معنوں میں عوامی اور اسلامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تحریکوں میں عوام نے دل و جان سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی ایران نے کہا کہ خطے میں انقلابی تحریکوں کے درج ذیل اصول بیان کئے جا سکتے ہیں:
۱۔ قومی عزت و وقار کا احیاء جو کرپٹ آمر حکمرانوں کی طویل دورہ حکومت اور امریکہ و مغربی دنیا کے سیاسی تسلط کی وجہ سے پامال ہو چکی تھی،
۲۔ اسلام کے پرچم کو بلند کرنا جس کے ساتھ عوام کا دیرینہ قلبی رابطہ اور عقیدہ ہے، امن و امان اور عدالت کا حصول اور ایسی ترقی و پیشرفت جو صرف اسلامی شریعت کے زیر سایہ ہی امکان پذیر ہے۔
۳۔ گذشتہ دو صدیوں سے جاری امریکہ اور یورپ کے تسلط و نفوذ کے خلاف قیام جنہوں نے عوام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور انکی تحقیر کی ہے،
۴۔ اسرائیل کی غاصب رژیم اور بوگس ریاست کا مقابلہ جسے عالمی استعمار نے خنجر کی مانند خطے کی کمر میں گھونپ رکھا ہے اور اپنے شیطانی تسلط کا ذریعہ بنا رکھا ہے اور ایک قوم کو اپنی تاریخی سرزمین سے جلاوطن کر رکھا ہے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ یقینا یہ اصول امریکہ اور اسرائیل کیلئے نامطلوب ہیں لہذا وہ انکو انکار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن انہیں جان لینا چاہئے کہ حقائق کسی کے انکار کرنے سے تبدیل نہیں ہوتے۔
خطے کی انقلابی اقوام آنے والے خطرات سے ہوشیار رہیں:
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے خطے کی انقلابی اقوام کو خبردار کیا کہ انکے راستے میں بہت زیادہ خطرات موجود ہیں لیکن انہیں خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان سے بچنے کا راستہ بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں اسلامی بیداری کی تحریک کو دو قسم کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، اندرونی اور بیرونی۔
قائد انقلاب اسلامی ایران نے ابتدائی کامیابی کے بعد سست پڑ جانے اور یہ سمجھنے کہ کرپٹ حکمران کی سرنگونی کے بعد مکمل کامیابی حاصل ہو چکی ہے اور کام ختم ہو چکا ہے کو پہلا خطرہ قرار دیا اور تاکید کی کہ جنگ احد کی مثال ہمارے سامنے ہے جس میں درے کی حفاظت پر مامور سپاہی غنیمت سمیٹنے میں مصروف ہو گئے اور خدا کی جانب سے سزا کے مستحق قرار پائے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرا خطرہ عالمی استعماری قوتوں کے ظاہری دبدبے سے مرعوب ہو جانا اور امریکہ سے خوفزدہ ہو جانا ہے، انقلابی جوانوں اور شجاع رہنماوں کو دل سے ہر قسم کا خوف نکال دینا چاہئے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے دشمن کی جانب سے بظاہر دوستانہ رویے اور حمایت اور اسکے وعدوں کے فریب میں آنے کو ایک اور اہم خطرہ قرار دیتے ہوئے تاکید کی کہ دشمن کو ہر روپ میں پہچاننے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن سے غافل بھی نہیں ہونا چاہئے اور تمام انسانی و جنی شیاطین کے مقابلے میں اپنے اندر موجود الہی طاقت کا سہارا لیں۔ 
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے اسلامی بیداری کی تحریک کو درپیش بیرونی خطرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا خطرہ امریکہ اور مغرب کے پٹھو حکمرانوں کا برسراقتدار آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی قوتیں محض چہروں کی تبدیلی کے ذریعے پرانے استعماری نظام کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
خداوند متعال پر توکل اور اسکی نصرت کی امید تمام مشکلات کا حل ہے:
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے خطے کی انقلابی اقوام کو تاکید کی کہ خداوند متعال کی ذات پر توکل اور قرآن کریم میں اسکی جانب سے نصرت کے وعدوں سے امیدوار رہتے ہوئے تمام مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے، آپ نے بڑے کام کا آغاز کیا ہے لہذا اسکی خاطر بڑی مشکلات کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہو جائیں۔
قائد انقلاب اسلامی ایران نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ خداوند کو اپنا حامی اور مددگار سمجھیں اور حاصل ہونے والی کامیابیوں سے غرور کا شکار نہ ہوں، ہمیشہ انقلابی اصولوں کو اپنے سامنے رکھیں اور ان سے غافل نہ ہوں، اپنے اصول اور نعروں کو اسلامی اصولوں کے ساتھ منطبق کریں۔ انہوں نے خودمختاری، آزادی، عدالت خواہی، آمریت اور استعماری قوتوں کے مقابلے میں نہ جھکنے، قومی، نسلی اور مذہبی تبعیض کی نفی اور صہیونیزم کی کھلی مخالفت کو اسلامی ممالک کی انقلابی تحریکوں کے بنیادی اصول قرار دیئے جو سب کے سب اسلام اور قرآن سے اخذ کئے گئے ہیں۔
ولی امر مسلمین جہان آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ہر قسم کے مذہبی، قومی، نسلی، قبائلی اور سرحدی اختلافات سے پرہیز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپس میں پائے جانے والے فرق کو اچھے انداز میں ہینڈل کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ افراد جو تکفیری فتووں کے ذریعے مذہبی اختلافات کو ہوا دیتے ہیں شیطان کے چیلے ہیں۔
جدید اسلامی تہذیب و تمدن کی تشکیل کو اپنا اصلی ہدف قرار دیں:
قائد انقلاب اسلامی ایران نے خطے سے آئے 700 محققین، سیاستدانوں، مذہبی رہنماوں اور برجستہ شخصیات کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپکی اصلی ذمہ داری سیاسی نظام کی تشکیل ہے جو انتہائی عظیم اور مشکل کام ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ لادین، سکولر، مغربی لبرل ڈموکریٹک، نیشنلسٹ شدت پسند یا بائیں بازو کے مارکسسٹی سیاسی نظاموں کو اپنے اوپر مسلط کئے جانے کی اجازت نہ دیں اور امت واحد مسلمہ اور جدید اسلامی تہذیب و تمدن کی تشکیل کو اپنا اصلی مقصد قرار دیں۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیل کے قبضے سے فلسطین کی آزادی بھی ایک اور بڑا ھدف ہے جس کیلئے تمام مسلم ممالک کو مل کر اقدام کرنا چاہئے۔ انہوں نے آج کی جوان نسل کو گذشتہ نسلوں کیلئے باعث افتخار قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کی نئی نسل فلسطین کو آزاد کروانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
یاد رہے کل ہفتے سے تہران میں پہلی دو روزہ بین الاقوامی اسلامی بیداری کانفرنس کا آغاز ہو چکا ہے جس میں مختلف اسلامی ممالک سے 700 سیاستدانوں، محققین، مذہبی رہنماوں اور برجستہ شخصیات نے شرکت کر رکھی ہے۔
خبر کا کوڈ : 99492
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے