0
Wednesday 7 Apr 2021 22:30

تمام لاپتہ افراد کی بازیابی تک ہماری پُرامن تحریک جاری رہے گی، عارف حسین الجانی

متعلقہ فائیلیںرپورٹ: توقیر کھرل

سرگودھا میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر نے تحصیل ساہیوال سے جبری لاپتہ ہونے والے سردار تنویر حیدر کے ورثاء اور علماء کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیاں قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہیں۔ جب قانون نافذ کرنے والے ہی قانون کو پامال کرتے ہیں تو اس سے تاثر یہ جاتا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا راج ہے۔ اگر انتہاء پسند تکفیری بھی ایسا رویہ اختیار کریں اور قانون نافذ کرنے والے بھی قانون پر عمل نہ کریں، جن کی ذمہ داری ہے تو ایسی صورت حال میں کس سے انصاف اور امن کی امید لگائی جائے۔؟ مسلسل گمشدگیوں سے شہریوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ گویا ملک میں قانون نام کی کوئی چیز وجود ہی نہیں رکھتی۔ جس فرد پر ذرا بھی شک ہو یا جس سے آپ راضی نہیں ہیں، بیلنس پالیسی کے نام پر اسے جبری طور پہ اغوا کرلیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی ظالمانہ عمل ہے، جس سے ہر محب وطن پاکستانی کا دل رنجیدہ ہے۔ ہم پاکستان میں لاقانونیت کے حامی نہیں ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئٹہ میں سیکڑوں جنازے سڑک پر رکھ کر پُرامن احتجاج کیا۔ ہم محب وطن شہری ہیں۔

ہمارا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ ہے کہ جبری طور پہ لاپتہ کیے جانے والے افراد کو فوری طور پہ بازیاب کروایا جائے۔ اگر وہ کسی بھی جرم میں ملوث ہیں تو عدالت اور قانون کے مطابق ان کو سزا دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملت تشیع کے نوجوانوں کو پہلے فرقہ وارانہ تشدد کی بھینٹ چڑھایا گیا، اب مسنگ پرسنز کا مسئلہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہوچکا ہے۔ لاپتہ شیعہ افراد کے لواحقین ہم سے سوال کرتے ہیں کہ ہمارے عزیز کہاں ہیں۔ وہ دوہری اذیت کا شکار ہیں۔ ہم ہمیشہ سے مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ اگر لاپتہ کیے جانے والے افراد کسی جرم میں ملوث ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ ہمارے متعدد نوجوان عزیز لاپتہ کیے گئے ہیں۔ ہم مسنگ پرسنز کو فراموش نہیں کرسکتے، ہر قیمت پر ہمیں یہ افراد چاہییں، انہیں رہا کیا جائے۔ ہم پورے ملک میں آواز اٹھائیں گے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے، ہم گذشتہ تین سال سے ایک ہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمارے لاپتہ افراد کو فوری طور پہ بازیاب کروایا جائے، اگر وہ کسی بھی جرم میں ملوث ہیں، انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ ہم آرمی چیف، چیف جسٹس اور وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تنویر حیدر سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری بازیاب کروایا جائے۔ جب تک تمام لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کروایا جاتا ہماری پُرامن تحریک جاری رہے گی۔ ہم ملک کے گوش و کنار میں دھرنوں کا دائرہ وسیع کر دیں گے اور ہرگز چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ اس کے علاوہ بیرون ممالک میں محب وطن پاکستانی اس احتجاجی تحریک کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کروائیں گے اور جب تک آخری لاپتہ فرد واپس نہیں آجاتا، ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔
خبر کا کوڈ : 925901
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
مربوطہ فائل
ہماری پیشکش