0
Tuesday 4 May 2021 18:43
یوم القدس کے موقع پر سرکاری سطح پر تقریبات منعقد کی جائیں

مسئلہ فلسطین کا حل مسلم امہ کے اتحاد ہی سے ممکن ہے، کوئٹہ القدس کانفرنس

شہدائے القدس کوئٹہ کو خراج عقیدت، اسرائیل سے تعلقات مسلم اُمّہ سے خیانت قرار
متعلقہ فائیلیںرپورٹ: توقیر ساجد کھرل

مقررین نے بعض عرب ممالک کے قابض صیہونی ریاست کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرنا درحقیقت مسلم امہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی امریکی و صہیونی سازش ہے۔ فلسطین فاؤنڈیشن بلوچستان کے زیراہتمام کوئٹہ پریس کلب میں گول میز کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں علامہ مقصود علی ڈومکی، نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر رحمت صالح ایڈووکیٹ، بی این پی مینگل کے مرکزی رہنماء موسیٰ بلوچ، غلام نبی مری، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء کمانڈر خدا داد، امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی، ممتاز دانشور و کالم نگار امان اللہ شادیزیی، سابق سینیٹر قوم پرست رہنماء میر مہیم خان بلوچ، ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنماء علامہ سید ہاشم موسوی، چرچ آف پاکستان کے مسیحی رہنماء پاسٹر اسلم برکت، بی ایس او کے رہنماء، ملک بابل بلوچ، ممتاز عالم دین ڈاکٹر عطا الرحمن، علامہ ولایت حسین جعفری، ایڈووکیٹ عبدالھادی کاکڑ و دیگر نے خطاب کیا۔

گول میز کانفرنس سے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالم انسانیت کے سب سے بڑے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے غفلت برتی جا رہی ہے، مسئلہ فلسطین تاریخ کے سنگین دور سے گزر رہا ہے۔ دنیا میں پھیلی کورونا وبا کے باعث جہاں کئی اور مسائل نے جنم لیا ہے، وہاں مسئلہ فلسطین کو بھی پس پشت ڈال دینے کی ہر ممکنہ کوشش کی جا رہی ہے اور پہلے کی نسبت آج فلسطین کاز کے خلاف اندرونی و بیرونی دشمن سرگرم ہوچکے ہیں، امریکہ اسرائیل، ہندوستان اور ان کے دوست پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل ہیں، کشمیر میں مظلوم عوام انصاف کی راہ تک رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام بانیان پاکستان کے نظریہ اور اصولوں پر کاربند ہیں اور اسرائیل جیسی جعلی ریاست کو تسلیم تو دور دوستانہ تعلقات کو بھی مسترد کر چکے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کا اس عنوان سے موقف یقیناً لائق تحسین ہے، لیکن اس معاملہ پر مزید استقامت اور استحکام کی ضرورت اب بھی باقی ہے۔

مقررین نے بعض عرب ممالک کے قابض صیہونی ریاست کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرنا درحقیقت مسلم امہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی امریکی و صہیونی سازش ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی عرب یا دیگر حکمرانوں کی اسرائیل دوستانہ پالیسی کا پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کوئی اثر نہیں ہونا چاہیئے، پاکستان ایک خود مختار اور ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے، لہذا پاکستان کی پالیسی وہی ہوگی جو قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی ہے، ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والوں کو مسلم امہ کا خائن سمجھتے ہیں۔ مسئلہ فلسطین کا حل مسلم امہ کے اتحاد ہی سے ممکن ہے، تاہم جو ممالک اور حکمران اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرچکے ہیں، ہم ان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل سے فی الفور تعلقات منقطع کریں اور مسلم امہ کے جذبات کو مجروح ہونے سے بچالیں۔

ہم حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں فلسطین کاز اور کشمیر کاز کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے عناصر کی بیخ کنی کے لئے سخت اقدامات کئے جائیں۔ مقررین نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر منائیں اور پاکستان بھر میں یوم القدس کے اجتماعات میں شریک ہو کر مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کریں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان کو بھی چاہیئے کہ یوم القدس کے موقع پر سرکاری سطح پر تقریبات منعقد کی جائیں اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے اصولوں کے تحت فلسطین و کشمیر کے عوام کی حمایت جاری رکھی جائے۔ قارئین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.youtube.com/c/IslamtimesurOfficial
خبر کا کوڈ : 930713
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
مربوطہ فائل
ہماری پیشکش