1
Thursday 29 Jul 2021 17:57
عراق اور شام کے بعد داعش کا اگلا ٹارگٹ افغانستان ہے

آئی ایس او پاکستان کے سابق مرکزی صدر اور سینیئر تجزیہ نگار یافث نوید ہاشمی کا خصوصی انٹرویو 

افغان مسئلے میں پاکستان، ایران اور چائنا کو مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے 
متعلقہ فائیلیںمحمد یافث نوید ہاشمی 1983ء میں ساہیوال میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم ملتان میں حاصل کی۔ قائداعظم یونیورسٹی سے کامرس میں ایم اے کیا۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے ایل ایل بی آنرز کیا اور بہائوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ایل ایل ایم کیا۔ آج کل وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ بار میں پریکٹس کرتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں دوران تعلیم وہ 2002ء میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان میں شامل ہوئے اور یونیورسٹی میں مختلف ذمہ داریوں پر رہے اور بعد ازاں مرکز میں ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور جنرل سیکرٹری رہے۔ 2006ء سے 2007ء تک امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر رہے۔ صدارت کے بعد مجلس وحدت مسلمین کے بنیادی بانیان میں آپکا شمار ہوتا ہے۔

انہوں نے اپنے صدارتی دور میں مختلف ممالک میں انٹرنیشل کانفرنسز میں آئی ایس او پاکستان کی نمائندگی کی۔ یافث نوید ہاشمی گیارہ ماہ جبری طور پر لاپتہ بھی رہے، یافث نوید ہاشمی اسلامی تحریکوں، اسلامی ممالک کے حالات اور پاکستان کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ گذشتہ روز افغانستان سے امریکی انخلاء اور افغانستان میں بڑھتی ہوئی طالبان کی پیشرفت، پاک افغان تعلقات اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی صورتحال پر اسلام ٹائمز نے ان سے خصوصی گفتگو کی، جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ قارئین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)

https://www.youtube.com/c/IslamtimesurOfficial/videos

معروف قانون دان اور سینیئر تجزیہ نگار یافث نوید ہاشمی نے کہا ہے کہ افغانستان اس وقت عالمی سیاسی موضوعات میں سے ایک ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں سے امریکی انخلاء جو کہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے عالمی ماہرین کے لیے۔ استعمار جب بھی کسی ملک پر قبضے کرنے کے بعد جب وہاں سے نکلتا ہے تو وہ اُس ملک کو اس انداز کے مسائل میں ڈال کر جاتا ہے، جس کے ذریعے اس ملک کی مشکلات میں اضافہ ہو، چاہے وہ برطانیہ ہو برصغیر میں، فرانس ہو یا امریکہ ہو، سب کا ایک ہی طرزعمل ہے، امریکہ کبھی بھی افغانستان کو ایسے ہی نہیں چھوڑ کے جائے گا، افغانستان کی جغرافیائی پوزیشن سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کو سمجھے بغیر افغانستان کی صورتحال نہیں سمجھ سکتے، افغانستان کے ساتھ طویل ترین بارڈر پاکستان کا ہے اور پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے، افغانستان کے ساتھ ایران کا بارڈر ہے، ایران امریکہ کے مقابلے میں ایک بڑا آئیڈیالوجیکل ملک ہے، چائنا اور روس کا بارڈر ہے، اس تمام صورتحال کے بعد امریکہ وہاں سے آسانی نہیں نکلے گا، یقیناً وہاں پر امریکہ کی جانب سے مسائل پیدا کیے گئے ہیں۔

عراق اور شام میں داعش کو ہزیمت کے بعد افغانستان میں داعش کو لانچ کیا گیا اور داعش کا اگلا ٹارگٹ افغانستان ہے، امریکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت افغانستان سے نکل رہا ہے، تاکہ امریکہ کے جانے کے بعد یہ پورا خطہ خانہ جنگی کی لپیٹ میں رہے اور خانہ جنگی کے سب سے زیادہ اثرات ہمسایہ ممالک پر پڑتے ہیں اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک میں پاکستان، ایران، چائنہ اور روس ہیں، اس وقت جو افغان حکومت ہے، وہ کمزور حکومت جو کسی بھی بڑی خانہ جنگی کی متحمل نہیں ہے۔ افغانستان میں حامد کرزئی اور اشرف غنی نے جتنا امریکہ کے لیے کام کرنا تھا کر لیا، اب امریکہ چہرہ بدل رہا ہے، کچھ عرصے کے بعد نئے طالبان کا چہرہ واضح ہوگا، ابھی چیزیں واضح اور کلیئر نہیں ہیں، جس کے بعد وہاں کے شیعہ اور دیگر قبائل اپنا لائحہ عمل بنائیں گے۔

افغانستان کا دیرپا حل وہاں کے عوام کی جانب سے قیادت کا چناو ہوگا۔ ایران، چائنا اور پاکستان کو افغانستان کے مسئلے پر سوچنے کی ضرورت ہے، ان تینوں ممالک کو افغان عمائدین کو اکٹھا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے، کیونکہ سب سے زیادہ متاثر انہیں ممالک نے ہونا ہے اور سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوگا، کیونکہ پاکستان کا طویل ترین بارڈر افغانستان کے ساتھ ملتا ہے، بھارت کی افغانستان میں سرمایہ کاری کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے اور بھارت نے ماضی میں ایسی کئی سازشیں پاکستان کے خلاف کی ہے، جنہیں قومی سلامتی کے اداروں نے بے نقاب بھی کیا ہے۔

افغان مسئلے میں پاکستان، ایران اور چائنا کو مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کا معاملہ اور افغان سفیر کی واپسی یہ گذشتہ دہائی کے اندر انڈیا کی افغانستان کے اندر ہونے والے سرمایہ کاری اور تعلقات کا شاخسانہ ہے، کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں چھوڑا گیا، جس سے پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش نہ کی گئی ہو اور حالیہ اسلام آباد کا واقعہ بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ پاکستان کو بار بار اڈے نہ دینے کے بیان کی ضرورت نہیں، جب پاکستان کی جانب سے واضح کہا گیا کہ ہم اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے، جس کے بعد امریکہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ہم نے تو اڈے مانگے نہیں تھے، کیونکہ امریکہ اس ہزیمت سے بچنا چاہتا ہے کہ اُس نے کسی ملک سے کسی چیز کی ڈیمانڈ کی اور اُس نے انکار کر دیا، پاکستان جیسا ملک جو کسی دور میں امریکی بلاک کا حصہ رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 945785
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش